موبائل فون ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کی فراہمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افریقہ کے دیہی علاقوں میں کروڑوں افراد پانی کے لیے دستی پمپوں پر انحصار کرتے ہیں

افریقہ کے دیہی علاقوں میں جلد ہی پانی کی فراہمی کو موبائل فون ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنایا جا سکے گا۔

برطانوی محققین نے ڈیٹا ٹرانسمیٹرز کا ایک جدید نظام بنایا ہے جو پانی کے دستی پمپوں کے اندر نصب کیا جا سکتا ہے۔ پمپ خراب ہونے کی صورت میں یہ ڈیٹا ٹرانسمیٹرز ایک پیغام بھیجتا ہے۔

’سمارٹ دستی‘ نامی پمپوں کو پہلے کینیا کے ستر دیہاتوں میں آزمایا جائے گا۔

اس نئے انداز کے پمپوں کی تفصیلات ’جرنل آف ہائیڈرو انفورمیٹکس‘ نامی جریدے میں شائع کی گئیں ہیں۔

افریقہ کے دیہی علاقوں میں کروڑوں افراد پانی کے لیے دستی پمپوں پر انحصار کرتے ہیں۔

اندازوں کے مطابق ان پمپوں میں سے کم از کم ایک تہائی کسی بھی خراب رہتے ہیں اور دور دراز علاقوں میں ہونے کی وجہ ان کی مرمت پر ایک ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔

افریقہ میں گزشتہ چند سالوں میں رونما ہونے والی ایک اہم تبدیلی موبائل فون نیٹ ورکس کا پھیلاؤ ہے۔ اندازے کے مطابق افریقہ میں موبائل فون نیٹ ورکس تک رسائی، پانی تک رسائی سے زیادہ عام ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے یہ نظام تیار کیا ہے جس کا مقصد دستی پمپ کے خراب ہونے کی صورت میں ان کی فوری مرمت کو یقینی بنایا ہے۔

ڈیٹا ٹرانسمیٹرز پمپ کے ہینڈل میں نصب کیا جاتا ہے۔ ہینڈل کی حرکت سے پانی کے بہاؤ کی مقدار کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور خرابی کی صورت میں ایک مرکزی دفتر کو پیغام بھیجا دیا جاتا ہے جو فوری طور پر مکینک کو بھیج سکتے ہیں۔

کینیا کے ستر دیہاتوں میں آئندہ ایک ماہ کے دوران ’سمارٹ دستی پمپ‘ نصب کیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے لیے برطانوی حکومت سرمایہ فراہم کر رہی ہے۔

راب ہوپ اس منصوبے کے محققین میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہمارا ہدف مرمت کے وقت کو چوبیس گھنٹے تک لانا ہے۔ پمپوں کے خراب ہونے کے اسّی فیصد واقعات میں خرابی انتہائی معمولی نوعیت کی ہوتی ہے جسے مکینک موقع پر ہی مرمت کر سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہمیں امید ہے کہ پمپوں کی خرابی کے بارے میں معلومات اکٹھی کر کے ہم آئندہ ایسا نظام بنا سکیں گے جو پمپ کے خراب ہونے سے پہلے ہی پیشنگوئی کر سکے۔‘

اس منصوبے میں ابھی بہت سے مسائل کا حل تلاش کرنا باقی ہے جیسے کہ اس نظام کو بجلی کیسے فراہم کی جائے۔

کینیا میں ہونے والے تجربے میں محققین نے طویل عرصے تک چلنے والی بیٹریوں کا استعمال کیا ہے۔

اسی بارے میں