ٹوئٹر پر نائکی کی فٹبال مہم پر پابندی

ویئن رونی (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption رونی کے ٹویٹر پر چالیس لاکھ سے زیادہ ’فالوور‘ یا مداح ہیں

برطانیہ میں اشتہارات سے متعلق نگراں ادارے نے ٹوئٹر پر چلنے والی نائکی کمپنی کی ایک مہم پر پابندی لگا دی ہے۔

نگراں ادارے ’ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈز اتھارٹی‘ یعنی اے ایس اے نے یہ پابندی فٹبال کے کھلاڑیوں ویئن رونی اور جیک وِلشیئر کے ٹوئٹر پر لگائے گئے ان پیغامات کے بعد عائد کی ہے جو ان کھلاڑیوں نے نائکی کی درخواست پر ٹویٹ کیے تھے۔

اے ایس اے کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے ان پیغامات میں یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ انہوں نے سپورٹس ملبوسات کی اس کمپنی کے کہنے پر کیے ہیں۔ ادارے کے مطابق یہ اشتہارات تھے لیکن اشتہارات کی شکل میں نہیں تھے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس نگراں ادارے نے ٹوئٹر پر چلنے والی کسی مہم کے خلاف کارروائی کی ہو۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس کو دونوں کھلاڑیوں کے ٹویٹس پر ایک شکایت کئی ہفتے پہلے موصول ہوئی تھی۔ دونوں کھلاڑیوں نے یہ ٹویٹ اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے لکھے تھے اور دونوں میں نائکی کے اشتہارات کے جملے اور مخصوص سلوگن استعمال کیے گئے تھے۔

ٹوئٹر پر وئن رونی کے چالیس لاکھ سے زائد ’فالوور‘ یا قارئین ہیں۔ یکم جنوری کو لگائے گئے اس پیغام کو اب ٹوئٹر سے ہٹا دیا گیا ہے۔

آرسینل کے کھلاڑی جیک وِلشئر کے دس لاکھ سے زیادہ فالوور ہیں۔ ان کے پیغام کے بارے میں اے ایس اے کا کہنا ہے کہ وہ اتنا نمایاں نہیں تھا جتنا رونی کا تھا۔

نائکی کا کہنا تھا کہ کمپنی سے دونوں کھلاڑیوں کے تعلق کا لوگوں کو پتہ ہی تھا اور کمپنی کافی عرصے سے ان کو سپانسر رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان ٹویٹس پر نائکی کے ہیش ٹیگ اور اشتہاری مہم کے سلوگن سے یہ وا ضح تھا کہ یہ ان کھلاڑیوں کے ذاتی پیغامات سے کچھ ہٹ کر ہیں۔

تاہم نگراں ادارے اے ایس اے کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر استعمال کرنے والے افراد تیزی سے ان پیغامات کو دیکھتے ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد کو نائکی کی اس مہم اور سپانسرشپ کے بارے میں پہلے سے علم نہ ہو۔

اے ایس اے کی تجویز ہے کہ مستقبل میں کمپنیوں کو ہیش ٹیگ اور ’ایڈ‘ یعنی اشتہار کا لفظ استعمال کرنا چاہیئے جس سے یہ بالکل واضح ہو کہ اس پیغام کے لیے رقم دی گئی ہے۔

نگراں ادارے کے ترجمان میٹ وِلسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سب ہمارے لیے نئے سوالات ہیں۔ لوگ ٹوئٹر کا تجربہ کر کے صارفین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ٹوئٹر پر وہی قواعد و ضوابط لاگو ہوں گے جو الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا پر ہیں۔‘

اسی بارے میں