چین: وائیبو کی سہولیات کے لیے فیس مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وائیبو مائیکرو بلاگنگ چین میں انتہائی مقبول ہے

چین کے سب سے بڑے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم وائیبو نے اپنی خصوصی سہولیات کے حصول کے لیے دس یوان ماہانہ فیس مقرر کر دی ہے۔

اب وائیبو کے تین سو ملین صارفین ماہانہ دس یوان دے کر دیگر عمومی سہولیات کے علاوہ ذاتی صفحات، صوتی پیغامات اور بہتر سکیورٹی جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اس قدم کو کمپنی کی جانب سے کاروبار میں بہتری کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وائیبو نے مئی میں مالی سال کے پہلی چوتھائی میں ایک کروڑ سینتیس لاکھ ڈالر کے مساوی خسارہ دکھایا تھا۔

ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’جراتمندانہ‘ قدم ہے لیکن دنیا بھر میں مائیکرو بلاگنگ کی سب سے زیادہ مقبول سائٹ ٹوئٹر سے ایسے کسی قدم کی توقع نہیں کی جا رہی۔

ٹیکنالوجی بلاگ ’ٹیک ان ایشیا‘ کے مطابق وائیبو نے کل پندرہ خصوصی سہولیات متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

بیجنگ سے تعلق رکھنے والے کاروباری مشیر اور بی ڈی اے کے سربراہ ڈنکن کلارک کا کہنا ہے کہ سہولیات کے لیے فیس عائد کرنے کا فیصلہ حکومتی دباؤ کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ چینی حکومت چاہتی ہے کہ وائیبو اپنے نیٹ ورک پر بھیجی جانے والے ’غیرقانونی‘ پیغامات فلٹر کرے اور اس عمل سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

وائیبو چین میں انتہائی مقبول ہے تاہم کلارک کے مطابق حال ہی میں ویب سائٹ کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی پابندیوں کے بعد اس کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے۔

تجزیہ کار مارک ملیگن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ چین میں یہ قدم کامیاب ہو لیکن مغربی سوشل نیٹ ورکس کے لیے اس کی نقل کرنا ایک غلطی ہوگا۔

ان کے مطابق ’یہ ایک جرات مندانہ قدم ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ٹوئٹر بھی ایسا کچھ کرے گا۔ کم از کم فی الحال تو نہیں‘۔

ٹوئٹر کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی دیگر کمپنیوں کے اقدامات پر تبصرہ نہیں کرتی اور یہ کہ ٹوئٹر کا کاروباری ماڈل اشتہارات کی بنیاد پر قائم ہے۔

اسی بارے میں