رحم مادر میں بچے کا کامیاب آپریشن

tumour foetus تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نایاب ٹیومر ہے جسے ’اورل ٹیراٹوما‘ کہتے ہیں۔

امریکہ میں ڈاکٹروں نے رحمِ مادر میں موجود پانچ ماہ کے ایک بچے کے منہ پر موجود ایک ٹیومر یعنی رسولی کا کامیاب آپریشن کیا ہے۔

اسے اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹیمی گونزالز نامی ایک خاتون نے حمل کے سترہویں ہفتے میں کروائے جانے والے ایک معائنے کے بعد بتایا کہ انہوں نے اپنے بچے کے منہ سے کوئی بلبلہ نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نایاب ٹیومر ہے جسے ’اورل ٹیراٹوما‘ کہتے ہیں ہے اور بہت کم توقع تھی کہ ان کی بچی زندہ رہ پاتی۔

طب کی دنیا میں سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والے اس آپریشن کے پانچ ماہ بعد ننّھی لینا کی پیدائش ہوئی۔ لینا صحت مند ہیں اور ان کے آپریشن کی نشانی کے طور پر ان کے منہ پر محض ایک چھوٹا سا زحم کا نشان ہے۔

فلوریڈا میں جیکشن میموریل ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیومر بہت ہی نایاب قسم کا ہے اور ایسا کیس ہسپتال کی بیس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ آیا ہے۔

رسولی نکالے جانے کے عمل میں حاملہ خاتون ٹیمی گونزالز کو لوکل انستھیزیا دیا گیا اور بچے کے گرد موجود حفاظتی غلاف کے اندر ایک سوئی داخل کی گئی۔ جس کے بعد لیزر کی مدد سے لِینا کے ہونٹوں پر موجود رسولی کو کاٹا گیا۔ یہ آپریشن ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔

ٹیمی نے میامی میں نیوز کانفرنس میں بتایا ’جب انہوں نے اس چیز کو مکمل طور پر ہٹا دیا اور تو مجھے لگا جیسے مجھ پر سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو اور اب میں اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھ سکتی ہوں۔‘

انہوں نے آپریشن کرنے والے سرجنوں کو میسحا قرار دیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’ہمارے علم کے مطابق یہ رحم کے اندر بچے میں ’اورل ٹیراٹوما‘ نامی رسولی کا پہلا کامیاب آپریشن ہے۔‘

اسی بارے میں