چینی خلائی جہاز کی زمین پر واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لیو یئنگ کا یہ پہلا خلائی سفر تھا۔

چین کا خلائی جہاز شینزو 9 جس پر عملے کے تین ارکان سوار تھے، تیرہ روزہ کامیاب خلائی مشن کے بعد زمین پر لوٹ آیا ہے۔

اس مشن میں خلائی جہاز کو خلا بازوں کی مدد سے تیانگونگ 1 خلائی تجربہ گاہ سے منسلک کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

یہ چین کے سنہ دو ہزار بیس تک ایک خلائی سٹیشن بنانے کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

چینی وزیرِاعظم ون جیاباؤ نے اس مشن کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا۔سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق تمام خلاباز اچھی صحت میں تھے۔

خلائی عملے کے سربراہ لیو یئنگ نے واپس پہنچنے کے بعد کہا ’زمین پہ قدم رکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے اور گھر آکر بہت خوشی ہو رہی ہے‘۔

اس خلائی جہاز کے عملے میں چین کی پہلی خاتون خلاباز لیو یئنگ بھی شامل تھیں۔ چند روز پہلے تک فضائیہ کی یہ عام پائلٹ آج چین میں انتہائی معروف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تیانگونگ خلائی تجربہ گاہ میں ان کا رہائشی حصہ آرام دہ اور خوشگوار تھا۔

اس مشن کے مختلف مراحل کو چین کے ریاستی میڈیا میں تفصیلات کے ساتھ نشر اور شائع کیا گیا یہاں تک کہ خلائی جہاز سے منسلک کرنے کے عمل اور لینڈنگ کو براہِ راست سرکاری ٹی وی چینل پر دیکھایا گیا۔

خلائی جہاز کے تجربہ گاہ سے منسلک ہونے کا عمل خلائی سٹیشن کی تیاری میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ غیر خودکار طریقے سے خلائی جہاز کو خلائی سٹیشن سے متصل کرنے کی صلاحیت اس لیے حاصل کی جاتی ہے کہ اگر خودکار نظام کام کرنا چھوڑ دے تو اس صورت میں یہ عمل سرانجام دیا جا سکے۔

یہ صلاحیت چین کی جانب سے آئندہ دہائی میں خلائی سٹیشن کی تعمیر کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ اس خلائی پروگرام کے دوران شاید کسی شخص کو چاند پر بھی بھیجیں۔

چین خلائی ٹیکنالوجی میں امریکہ یا روس کے مقابلے میں ابھی بہت پیچھے ہے تاہم وہ اس میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

شینزو 9 خلائی جہاز سولہ جون کو خلاء میں روانہ کیا گیا تھا اور اٹھارہ جون کو خودکار طریقے سے خلائی مرکز سے منسلک ہو گیا تھا۔

زمین کے گرد خلائی مدار میں ہزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتے ان خلائی جہازوں کو منسلک کرنے کا عمل انتہائی پیچیدہ اور نازک ہوتا ہے تاہم امریکہ اور روس نے یہ صلاحیت ساٹھ کی دہائی میں حاصل کر لی تھی۔

اسی بارے میں