ایڈز کی ایک نئی اور موثر دوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایڈز کے علاج میں مریضوں کے لیے ایک اہم مشکل بہت سی ادویات کا مختلف اوقات پر کھانا ہوتا ہے۔

ایک امریکی تحقیق میں ایڈز کے خلاف تیار کردہ ایک نئی دوا کو محفوظ اور مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

اس دوا کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک گولی چار مختلف ادویات کا مجموعہ ہے اور اسے دن میں صرف ایک مرتبہ کھانا ہوگا۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس ایک گولی کے استعمال سے مریضوں کی مشکلات میں کمی آئے گی۔

ایڈز ایک لاعلاج مرض ہے تاہم اس کے مضر اثرات سے نمٹنے اور اس وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے دن کے مختلف اوقات میں مختلف ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی دوا کے رہ جانے یا وقت کی غلطی کی صورت میں مریض کے لیے کافی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

چار دواؤں پر مشتمل یہ گولی پہلی ایسی دوا ہے جس میں وہ اجزاء موجود ہیں جو کہ ایچ آئی وی وائرس کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔

امریکی شہر بوسٹن میں بریگھم اینڈ ومنز ہسپتال کے کلینکل ڈائریکٹر اور ہارورڈ میڈیکل سکول کے ایسوسی ایٹ پروفیسر پال سیکس کا کہنا تھا ’باقاعدگی سے دوا کھانا مریضوں کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے خاص کر ایچ آئی وی مریضوں کے لیے، کیونکہ اس مرض میں دوا کھانے میں بےضابطگی سے جلد ہی وائرس پر دوا کا اثر ختم ہو جاتا ہے‘۔

وہ دوا پر تجربات کرنے والی اس ٹیم کے سربراہ تھے جس نے اس تحقیق کے دوران سات سو مریضوں کی دی جانے والی ادویات کے اثرات کا موازنہ اس نئی دوا کے اثرات سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دوا محفوظ اور موثر ہے تاہم اس اس کے استعمال کرنے والوں میں گردوں کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔

برمنگھم ہارٹ لینڈ ہسپتال کے ایچ آئی وی کے ماہر ڈاکٹر سٹیو ٹیلر کا کہنا تھا ’بلاشبہ دن میں ایک بار کھانے والی گولی کی ایجاد ایچ آئی وی کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے۔ ہم اس وقت سے بہت پیش رفت کر چکے ہیں جب لوگوں کو دن میں تین بار چالیس گولیاں کھانی پڑتی تھیں‘۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بہت سے لوگوں کو ابھی بھی اس بات کا علم نہیں کہ وہ ایچ آئی وی کے مریض ہیں۔ برطانیہ میں اس مرض میں مبتلا تقریباً ایک چوتھائی لوگوں کو اپنے مرض کے بارے میں معلوم ہی نہیں۔

’لانسٹ‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ دوا ایڈز کے علاج کے لیے ایک اہم حل ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق کی مالی امداد بائیو ٹیکنالوجی کی کمپنی گلیڈ سائنسز نے کی تھی۔

اسی بارے میں