وقت میں ایک سیکنڈ کا اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption دنیا میں وقت ناپنے کے دو بین الاقوامی طریقے مقرر کیے گئے ہیں

سنیچر کی رات دنیا بھر کی الیکٹرانک گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وہ زمین کی روزانہ گردش سے تال میل برقرار رکھ سکیں۔

گھڑیوں کے ایجاد سے پہلے لوگ وقت کا اندازہ آسمان میں سورج کے مقام سے لگاتے تھے لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، یہ پتہ چلا کہ زمین کو سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرنے میں ٹھیک چوبیس گھنٹے نہیں لگتے ہیں۔

اس تاخیر کی وجہ مدوجزر اور موسمیاتی و ارضیاتی تبدیلیاں ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مقررہ وقت کے بعد دنیا بھر کی گھڑیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ حکومتیں اور سائنسدان وقت اس تبدیلی کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے دنیا بھر کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو خطرہ ہو سکتا ہے.

تاہم اس عمل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یہ قدرتی نظام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق اگر اس ایک سیکنڈ کا اضافہ نہیں ہوتا تو وقت ناپنے والی ہماری گھڑیاں اور زمین کی گردش کے وقت کے درمیان کا فاصلہ بڑھ جائےگا جو مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا میں وقت ناپنے کے دو بین الاقوامی طریقے مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک بین الاقوامی ایٹمی وقت جو دنیا بھر میں پھیلی ایٹمی گھڑیوں پر مبنی ہے اور دوسرا يونورسل ٹائم 1 جو گرينچ مین ٹائم کا جانشین ہے جس میں وقت کا تعین آسمان میں سورج کے مقام سے کیا جاتا ہے۔

پہلے طریقے کے مطابق ایٹمی گھڑیوں کو قریب ہر اٹھارہ ماہ بعد بہتر کیا جاتا ہے تاکہ وقت ناپنے کے طریقوں میں ایک سیکنڈ سے زیادہ کا فرق نہ آئے۔