حقیقت کے قریب تر روبوٹک ٹانگیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے روبوٹک ٹانگیں تخلیق کی ہیں جس سے ریڑھ کی ہڈی کے علاج میں مبتلا بچوں کو چلنے میں ملے گی۔

ماہرین نے جسم کے مختلف حصوں میں پیغام بھیجنے کا ایسا سسٹم ایجاد کیا ہے جو حقیقت سے قریب تر ہے۔ اس نظام کے ذریعے یہ جدید روبوٹک ٹانگ پٹھوں کے ذریعے چلنے کو کنٹرول کرے گا۔

یونیورسٹی آف ایریزونا سے تعلق رکھنے والی ٹیم نے سینٹرل پیٹرن جینریٹر (سی پی جی) کی طرز پر ایک نیٹ ورک بنایا جو ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے پٹھوں کو سگنل بھیجتا ہے۔

سی پی جی سسٹم ان سگنلز کو پیدا کرنے کے بعد انہیں کنٹرول کر کے جسم کے مختلف حصوں سے معلومات اکھٹی کرتا ہے جس سے چلنے میں مدد ملتی ہے۔

اس سسٹم کے ذریعے لوگوں کو عام روبوٹک ٹانگوں کی طرح ہر ایک حرکت کے بارے میں سوچے بغیر چلنے میں مدد ملتی ہے۔

یونیورسٹی آف ایری زونا کی ٹیم نے تجویز پیش کی ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے ریڑھ کی ہڈی کے علاج میں مبتلا بچے چلنا شروع کر سکتے ہیں۔

ٹیم میں شامل ڈاکٹر تھریسا کا کہنا ہے کہ ہم نے انسانوں کی طرح چلنے والے ایک روبوٹ کو تخلیق کیا ہے جو متوازن ہے۔

اسی بارے میں