’دماغ کو قوتِ گویائی دینے کی کوشش‘

پروفیسر سٹیفن ہاکنگ  تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پروفیسر ہاکنگ مکمل طور پر معذور ہیں اور اپنی نقل و حرکت کے لیے ایک خصوصی کرسی کا سہارا لیتے ہیں

ایک امریکی سائنسداں آنے والے کچھ دنوں میں کیمبرج یونیورسٹی میں ریاضی اور نظریاتی طبعیات کے پروفیسر سٹیفن ہاکنگ کےدماغ کو پڑھنے کے بارے میں اپنی دریافت کی تفصیل سامنے لا رہے ہیں۔

امریکی سائنسداں پروفیسر فلپ لو کے مطابق انہیں امید ہے کہ اس سے سٹیفن ہاکنگ کے ذہن میں جاری باتوں کو قوتِ گویائی مل سکے گی۔

انہوں نے کہا اس کے نتیجے میں پروفیسر ہاکنگ اپنے دماغ کے ذریعے الفاظ ’لکھ‘ سکیں گے جو کہ ان کے حالیہ صوتی نظام کا متبادل ہوگا جس کے تحت ابھی ان کے گالوں کے پٹھوں کی حرکت کی بنیاد پر ان کی باتوں کی ترجمانی کی جاتی ہے۔

پروفیسر ہاکنگ مکمل طور پر معذور ہیں اور اپنی نقل و حرکت کے لیے ایک خصوصی کرسی کا سہارا لیتے ہیں اور ایک خصوصی طور پر تیار کردہ مشین کے ذریعے بولتے ہیں۔

پروفیسر ہاکنگ پروفیسر لو کی اس کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکیں گے جو کہ ان کے آبائی شہر کیمبرج میں ہو رہی ہے اور جہاں پروفیسر لو اپنی دریافت کی تفصیلات بیان کرنے والے ہیں۔

بہر حال ان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پروفیسر ہاکنگ ہمیشہ نئی تکنالوجی کی تحقیق میں مدد کرنے کے خواہاں رہتے ہیں جو ان کی گویائی میں معاون ہو سکے۔

پروفیسر ہاکنگ کو نظریاتی فزکس میں آئن سٹائن کے بعد سے سب سے باصلاحیت سائنسدانوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پروفیسر ہاکنگ ایک خصوصی طور پر تیار کردہ مشین کے ذریعے بولتے ہیں

انہوں نے 12 اعزازی ڈگریاں حاصل کی ہیں اور 2009 میں امریکہ میں انہیں سب سے اعلیٰ سول اعزاز صدارتی میڈل سے نوازا گیا تھا۔

1963 میں جب انہیں موٹر نیورون کا مرض لاحق ہوا تو اس وقت طبی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ صرف چند ماہ ہی زندہ رہ سکیں گے۔ لیکن سنہ انیس سو اسّی کی دہائی میں ہاکنگ اپنے انگوٹھے کی خفیف جنبش سے کمپیٹر کے کرسر سے کچھ جملے لکھنے لگے۔

اس کے بعد جب ان کی حالت مزید بگڑنے لگی تو انہیں ایک ایسے نظام سے منسلک کیا گیا جس کے ذریعے ان کے داہنے گال کی حرکتوں کو روشنی کے ذریعے بیان کیا جانے لگا۔

لیکن جوں جوں ان کے پٹھے کمزور ہوتے گئے ان کی گویائی کی رفتار کم ہوتی گئی اور یہ کم ہوکر ایک منٹ میں ایک لفظ تک محدود ہو گئی اور پھر ان کے لیے متبادل کی تلاش شروع ہوئی۔

یہ تشویش ظاہر کی جانے لگی کہ بالآخر پروفیسر ہاکنگ اپنے جسم کی حرکتوں کے ذریعے بھی بات کرنے کی اہلیت کھو دیں گے اور ان کا ذہن ان کے جسم میں قید ہو کر رہ جائے گا۔

سنہ دوہزار گیارہ میں انہوں نے پروفیسر لوکو اپنے ذہن کا سکین کرنے کی اجازت دی اور اس کے بعد ائی برین مشین سے ان کے دماغ کو سکین کیا گیا۔

اسی بارے میں