مائیکروسافٹ آفس کا جدید ورژن متعارف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس بار آفس دو ہزار تیرہ کے کام کرنے کے انداز کا مقصد صارفین کو محظوظ کرنا اور آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ سٹیو بالمر

مقبول سافٹ ویئر مائیکروسافٹ آفس کا ’ٹچ ٹیکنالوجی‘ سے لیس نیا ورژن پیر کے روز امریکی شہر سان فرانسسکو میں متعارف کروایا گیا۔

اس موقع پر کمپنی کے سربراہ سٹیو بالمر کا کہنا تھا کہ’ آفس دو ہزار تیرہ‘ مائیکروسافٹ کی اب تک کی ’جرات مندانہ ترین‘ تخلیق ہے۔

آفس دو ہزار تیرہ میں موبائل آلات، سماجی روابط کے ذرائع اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے ہم آہنگی لائی گئی ہے۔

آفس سافٹ ویئر دفتری کاموں کے لیے دنیا کا مقبول ترین سافٹ ویئر ہے اور دنیا بھر میں اس کے ایک ارب صارفین ہیں۔

یہ مائیکروسافٹ کا سب سے منافع بخش سافٹ ویئر ہے اور اس میں جدت لا کر کمپنی مارکیٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے پر امید ہے۔

آفس دو ہزار تیرہ، آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 8 اور سرفیس نامی مائیکروسافٹ کے متوقع ٹیبلیٹ کمپیوٹر کی طرح، مکمل طور پر ’ٹچ ٹیکنالوجی‘ سے لیس ہے۔

سرفیس ٹیبلٹ کمپیوٹر رواں سال اکتوبر میں متعارف ہونا ہے جو کہ حریف ایپل کے آئی پیڈ کے ڈھائی سال بعد مارکیٹ میں آ رہا ہے۔

سٹیو بالمر کا کہنا تھا کہ اس بار آفس دو ہزار تیرہ کے کام کرنے کے انداز کا مقصد صارفین کو محظوظ کرنا اور آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

پہلی بار ’ورڈ‘، ’ایکسل‘، پاور پوائنٹ‘ اور ’آؤٹ لُک‘ ٹچ سسٹم میں کام کر سکیں گے اور لوگ اپنے مختلف دستاویزات اور دیگر فائلوں کو براہِ راست چھو کر استعمال کر سکیں گے۔

گارٹنر کمپنی کے ایک محقق مائیکل سِیلور نے بتایا کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں آفس کی قدر چودہ ارب ڈالر رہی جو کہ مائیکروسافٹ کی آمدنی کا نصف حصہ ہے۔

اسی بارے میں