زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنے سے فٹنس مسائل

Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ دو گھنٹے سے زائد ٹی وی نہیں دیکھنا چاہیے۔

کینیڈا میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق دو سے چار سال کی عمر کے جو بچے ہفتے میں زیادہ وقت ٹیلی ویژن کے سامنے گزارتے ہیں ان کی دس سال کی عمر میں کمر کی موٹائی زیادہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

بائیو میڈ سینٹرل جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ٹیلی ویژن کے سامنے ہفتے میں ایک گھنٹہ زیادہ بیٹھنے سے کمر کی موٹائی میں نصف ملی میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار تین سو چودہ بچوں کی ٹی وی دیکھنے کی عادت کا مشاہدہ کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ دو گھنٹے سے زائد ٹی وی نہیں دیکھنا چاہیے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ شروع میں ان بچوں کی ہفتے میں ٹیلی ویژن دیکھنے کی اوسط آٹھ اعشاریہ آٹھ گھنٹے تھی اور دو سال کے بعد چار سال چھ ماہ کی عمر میں یہ اوسط بڑھ کی چودہ اعشاریہ آٹھ گھنٹے ہو گی۔

ان بچوں میں سے نصف کے والدین کے مطابق ان کے بچے اس عمر میں ہر ہفتے اوسطً اٹھارہ گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔

محققین کے مطابق چار سال چھ کی عمر میں ہفتے میں اٹھارہ گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھنے والے بچوں کی کمر دس سال کی عمر میں سات اعشاریہ چھ ملی میٹر زیادہ موٹی ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران بچوں کے لانگ جمپ یا چھلانگ لگانے کے ٹیسٹ بھی کیے گئے تاکہ ان کے پٹھوں کی صحت اور ایتھلیٹک صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس جائزے سے معلوم ہوا کہ روزانہ ایک گھنٹہ اضافی ٹی وی دیکھنے کی صورت میں بچے کی چھلانگ لگانے کی حد میں صفر اعشاریہ تین چھ فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

محققین کے مطابق صحت سے جوڑے مسائل کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ٹیلی ویژن دیکھنے کی عادت براہ راست صحت کے مسائل کا سبب ہے۔

کینیڈا کی یورنیورسٹی آف مونٹریال کی پروفیسر اور اس تحقیق میں شریک ڈاکٹر لینڈا پگانی کے مطابق ایک تنبیہ ہے کہ یہ عوامل بچوں کو موٹاپے کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

’اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ تجویز کردہ حد سے زیادہ ٹی وی دیکھنا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں