تپ دق کے نئے، زیادہ موثر علاج کی دریافت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 25 جولائ 2012 ,‭ 01:33 GMT 06:33 PST

دنیا میں ہر سال، پندرہ لاکھ افراد کی موت ٹی بی کی وجہ سے ہوتی ہے جن میں سے بیشتر ترقی پزیر ممالک کے لوگ ہوتے ہیں

جنوبی افریقہ کے محققین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹی بی کے علاج کے لیے ایک نیا اور موجودہ ادویات سے کہیں زیادہ مؤثر مرکب بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

تحقیق کے ابتدائی مراحل میں تین ادویات کے مرکب کے دو ہفتوں استعمال سے مریضوں میں ٹی بی کے ننانوے فیصد بیئکٹیریا یعنی جراثیم کا خاتمہ ہو گیا۔

ادویات کا یہ مرکب پچاسی مریضوں پر آزمایا گیا ہے اور اب اس کی وسیع پیمانے پر آزمائش کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

دنیا میں ہر سال پندرہ لاکھ افراد کی موت ٹی بی کی وجہ سے ہوتی ہے جن میں سے بیشتر ترقی پزیر ممالک کے لوگ ہوتے ہیں۔

روایتی ادویات کے ذریعے موجودہ علاج میں مریض کو چھ ماہ تک روزانہ اودیات کھانا ہوتیں ہیں۔ مرض کی دوسری اقسام میں یہ عرصہ ایک سے دو سال تک کا بھی ہو سکتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ اینڈریا ڈائکون نے کہا ’اس تحقیق سے شعبہِ صحت میں کام کرنے والے لوگوں میں تپِ دق کے علاج کے لیے بہتر اور تیز تر حل سامنے آنے کی امید پیدا ہوئی ہے‘۔

عالمی ادارہِ صحت کے ماریو راوگلیؤن کا کہنا تھا ’ابتدائی مراحل میں اس تحقیق کے نتائج انتہائی پر امید لگ رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ان ادویات کے ذریعے مریضوں کے علاج کے عرصے کو کافی کم کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ دپِ دق کی کسی بھی قسم میں مبتلا ہوں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔