گرین لینڈ:’برف پگھلنے کا عمل غیر معمولی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق رواں ماہ گرین لینڈ کے وسیع علاقے میں غیر معمولی طور پر برف پگھلی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پچھلی تین دہائیوں میں اتنے بڑے پیمانے پر برف پگھلنے کا عمل نہیں دیکھا گیا۔

ناسا کے سمٹ سٹیشن کا کہنا ہے کہ غیر متوقع طور پر گرین لینڈ کے سرد ترین اور بلند ترین علاقوں میں بھی برف پگھلی ہے۔

خلائی ایجنسی کے مطابق جس علاقے سے برف پگھل رہی ہے وہ تین روز کے اندر چالیس فیصد سے بڑھ کر ستانوے فیصد ہو گیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما میں گرین لینڈ میں برف تو ہر سال پگھلتی ہے لیکن جس رفتار کے ساتھ اس بار پگھل رہی ہے وہ غیر معمولی ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کی سطح پر موجود برف تقریباً پوری ہی پگھل گئی ہے۔ ان کے بقول گرین لینڈ کے وسط میں جہاں برف کی موٹائی تین کلومیٹر تک ہے وہ بھی پگھلی ہے۔

ناسا کے چیف سائنسدان ولید عبدالعتی کا کہنا ہے ’جب ہم ان علاقوں میں برف پگھلیے دیکھتے ہیں جہاں پر لمبے عرصے سے ایسا نہ ہوا ہو تو ہم چونک جاتے ہیں اور معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ بڑی نشانی ہے اور اس کا مطلب ڈھونڈنے میں ہمیں کئی سال لگا جائیں گے۔‘

ولید عبدالعتی کا کہنا ہے کہ برف پگھلنے کے بارے میں ہم یہ نہیں معلوم کرسکے کہ آیا یہ ایک قدرتی عمل ہے یا انسان کے باعث ہونے والی موسمی تبدیلی اس کے پیچھے ہے۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کی برف دوبارہ جم رہی ہے۔ ان کے مطابق پچھلی تین دہائیوں میں پگھلنے والی سب سے زیادہ برف گرین لینڈ کے پچپن فیصد علاقے میں پگھلی۔

ریکارڈ کے مطابق گرین لینڈ میں آخری بار بڑے پیمانے پر برف 1889 میں پگھلی تھی۔

واضح رہے سائنسدانوں نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ جزیرہ گرین لینڈ پر موجود پیٹرمین گلیشیئر سے برف کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہوگیا ہے۔

اس آئس برگ کا حجم نیویارک کے علاقے مین ہٹن سے دوگنا بتایا گیا ہے تاہم چونکہ یہ برف پہلے ہی سمندر پر تیر رہی تھی اس لیے اس سے سطحِ سمندر میں اضافے کا خدشہ نہیں ہے۔

اس برفانی تودے کے گلیشیئر سے علیحدہ ہونے کا انکشاف امریکی خلائی ادارے ناسا کے سیارچے سے لی گئی تصاویر میں ہوا ہے۔

اسی بارے میں