برطانیہ: چیونٹیوں کے جنسی ملاپ کا موسم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برطانیہ میں اڑتی چونٹیوں کے اجماع کا موسم شروع ہو گیا ہے۔

برطانیہ میں دھوپ نکل آئی ہے، گرمی کا موسم ہے جس کے ساتھ ہی اڑنے والے چیونٹیوں کے سالانہ جنسی ملاپ کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔

چیونٹیوں کی موسمی موجودگی اس وقت نظر آتی ہے جب یہ جنسی ملاپ کے لیے اڑان شروع کرتی ہیں اور ان کا اجماع سارے برطانیہ میں لگ بھگ ایک ہی دن ہوتا ہے جو چیونٹیوں کا رہائش کے لیے نئی جگہیں ڈھونڈنے کا یہ پہلا قدم بھی ہوتا ہے۔

یہ ایک اہم سوال ہے کہ چیونٹیوں کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کس دن ان کا اجماع ہوگا؟ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس اجماع کے لیے موزوں موسم بہت اہمیت کا حامل ہے۔

بیالوجی سوسائٹی کے ڈاکٹر مارک ڈانز کہتے ہیں کہ چیونٹیاں درجہ حرارت، ہوا میں نمی اور دن کے دورانیہ کا اندازہ کر کے اجماع کے لیے دن چنتی ہیں۔

’گرم اور مرطوب موسم ان کے لیے انتہائی موزوں ہوتا ہے۔ گرمی میں اڑنا آسان ہوتا ہے اور نمی سے مٹی نرم ہو جاتی ہے جس میں ملکاؤں کے لیے بل بنانا آسان ہوتا ہے۔ ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا کہ چوینٹیاں بلوں سے ایک ہی ساتھ اڑنے کے لیے رابطہ کیسے رکھتی ہیں‘۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چیونٹیاں اڑتے وقت ایک خاص قسم کی کیمیائی بو چھوڑتی ہیں جس سے انھیں ایک دوسرے کا پتہ چل جاتا ہے۔

ڈاکٹر مارک ڈانز کہتے ہیں کہ چیونٹیاں اتنی طاقتور نہیں ہوتیں، وہ پروں کے ذریعے جنسی عمل کرتی ہیں اور اگر یہ بارش میں نکلیں تو ان کے سیکس کرنے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ اگر زیادہ بارشوں کے بعد موسم گرم ہو تو امکانات ہیں کہ یہ چیونٹیاں باہر نکلیں گی۔

ایک کالونی کی چیونٹیاں دوسری کالونیوں سے آنے والے چیونٹیوں کے ساتھ جنسی ملاپ کے مواقع بڑھانے کے لیے ایک ہی وقت میں اڑتی ہیں۔ ڈاکٹر مارک ڈانز کہتے ہیں کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایک ساتھ اس غیر معمولی پرواز کے وقت کا تعین کیسے ہوتا ہے۔

ملکائیں نر چیونٹیوں کے ساتھ پرواز کے دوران سیکس کرتی ہیں پھر یہ پر گرا دیتی ہیں اور مٹی میں اپنی کالونی بنا لیتی ہیں۔ نر سیکس کے بعد جلدی مر جاتے ہیں لیکن یہ ملکائیں پندرہ سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر مارک ڈانز کے مطابق ملکائیں جب بل میں چلی جاتیں ہیں تو چھ ہفتوں تک کچھ نہیں کھاتیں اور اپنا پہلا کیڑا پالنے کے دوران یہ توانائی کے لیے اپنے پروں کے ذروں پر گزارا کرتی ہیں۔

بیالوجی سوسائٹی برطانیہ میں اڑنے والے چیونٹیوں کے نمودار ہونے کے نمونوں پر مزید تحقیق جاری ہے۔

اسی بارے میں