گوریلے سے تمباکو نوشی چھڑوانے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انڈونیشیا کے ایک چڑیا گھر کے حکام نے وہاں موجود ’اورنگوٹان‘ نسل کے ایک مادہ بندر کی نشے کی لت کو ختم کرنے میں مدد کے لیے اسے ایک چھوٹے جزیرے پر منتقل کردیا ہے۔

مرکزی جاوا کے سولو شہر کے ایک چڑیا گھر میں ٹوری نامی بندر تقریباً دس برس سے وہ سگریٹ پی رہا ہے جو چڑیا گھر آنے والے افراد اس کے پنجرے میں پھینک جاتے تھے۔

چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹورا کو ان کے نر ساتھی ڈیڈیک کے ساتھ جزیرے پر بھیجا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں جزیرے پر ایک ساتھ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انسانوں کی نقل کرنے کی کوشش میں ٹوری نے تمباکو نوشی شروع کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹوری سگریٹ کے ان سلگتے ہوئے ٹکڑوں کو اٹھا کر پیتی تھی جو اس کو دیکھنے والے سگرٹ پینے کے بعد پھینک کر چلے جاتے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ٹوری کا دوست ڈیڈک ایسا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ سگریٹ کے ٹکڑوں کو بجھا کر باہر پھینک دیتا تھا۔

چڑیا گھر کے ڈاریکٹر للک کرستیانتو نے جکارتہ کے گلوبل نیوز پیپر کو بتایا ’انڈونیشیا میں چڑیا گھروں کی پریشانی ہیں شریر لوگ جو جانور دیکھنے آتے ہیں اور شرارت کرتے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’حالانکہ چڑیا گھر میں بورڈز لگے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے کہ جانوروں کو کھانے پینے کا سامان اور سگریٹ نہ دیں۔ لیکن یہ شریر لوگ نہیں مانتے‘۔

اسی بارے میں