زحل پر بڑی لینڈ سلائیڈ کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زحل پر یہ لینڈ سلائیڈ افقی سفر کرتی ہے اور عمودی لینڈ سلائیڈ سے تیس گنا زیادہ سفر کرتی ہے

سائنسدانوں کا کہنا کہ سیارے زحل کے چاند پر بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈ ہوتی ہے یا تودے گرتے ہیں جو کہ شمسی نظام کے کسی اور سیارے میں نہیں دیکھا گیا۔

سائنسدانوں کے بقول یہ لینڈ سلائیڈ بہت تیزی سے اور دور تک سفر کرتی ہے جس کا اندازہ پہلے نہیں لگایا جا سکا تھا۔

سپیس مشن کسینی سے موصول ہوئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ برفیلی سطح جب گرم ہوتی ہے تو اس کے باعث یہ لینڈ سلائیڈ تیزی سے اور دور تک سفر کرتی ہے۔

سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر لینڈ سلائیڈ عمودی ہوتی ہے اور جتنا بڑا تودہ گرا ہوتا ہے اس سے دو گنا زیادہ سفر طے کرتی ہے۔

لیکن زحل پر یہ لینڈ سلائیڈ افقی سفر کرتی ہے اور عمودی لینڈ سلائیڈ سے تیس گنا زیادہ سفر کرتی ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے اس کے بارے میں کوئی متفقہ رائے نہیں ہے۔

امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی کی پروفیسر کیلسی سنگر کا کہنا ہے کہ زحل پر اتنے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ اس کی ناہموار سطح ہے۔

کیلسی سنگر زحل کے چاند کی سطح پر برف میں شگاف تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو شگاف تو نہیں ملے لیکن تیس بہت بڑی ٹینڈ سلائیڈنگ کے آثار مل گئے۔

اسی بارے میں