سپر ہائی وژن: مستقبل کا ایچ ڈی ٹی وی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’سپر ہائی وژن‘ میں استعمال ہونے والی تصویر ایچ ڈی ٹی وی کی تصویر سے سولہ گنا زیادہ واضح اور ملٹی چینل سراؤنڈ آواز کے ساتھ تھیں۔

لندن اولمپکس نے حال ہی میں دنیا کو نئی تصویری ٹیکنالوجی ’سپر ہائی وژن‘ میں پہلی براہ راست نشریات دکھائیں جن میں استعمال ہونے والی تصویر ایچ ڈی ٹی وی کی تصویر سے سولہ گنا زیادہ واضح اور ملٹی چینل سراؤنڈ آواز یا متفرق چینیلز پر پھیلنے والی آواز کے ساتھ تھیں۔

انیس سو چوبیس کے پیرس اولمپکس کے لیے کی گئی پہلی ریڈیو ٹرانسمیشن سے لے کر اب تک براڈکاسٹرز اولمپکس کو جدید اور مستقبل کی ٹیکنالوجی دکھانے کے موقع کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

انیس سو اڑتالیس کے لندن اولمپکس پہلے اولپمکس تھے جو کہ ٹی وی سکرین پر لوگوں کے گھروں میں دکھائے گئے اور انیس سو چونسٹھ کے ٹوکیو اولمپکس کی رنگین ٹی وی نشریات پیش کیں گئیں۔

انیس سو چوراسی کے لاس اینجلس اولمپکس پہلی بار ہائی ڈیفینیشن میں دکھائے گئے جو بالاخر برطانوی گھروں تک بیس سال بعد پہنچے۔

انیس سو اڑتالیس میں اس وقت کے بی بی سی کے بیرونی نشریات کے سربراہ نے ناظرین کو ٹی وی پر آ کر بتایا کہ نشریات کس طرح ہو رہیں ہیں۔

مثال کے طور پر انہوں نے کہا ’یہاں ایمپائر پول پر کیمرے پانی میں ہونے والے مقابلے اور باکسنگ دیکھنے کے لیے لگے ہیں‘۔ اور مزید کہا کہ ’یہ کیمرے بہت پیچیدہ ہیں اور بہت چھوٹے والو استعمال کرتے ہیں جو کہ دوران جنگ راڈار اور دیگر خفیہ مقاصد کے لیے بنائے گئے تھے‘۔

بی بی سی لندن اولمپکس دو ہزار بارہ کے دوران پچیس ہزار گھنٹے کی ہائی ڈیفینیشن ٹی وی نشریات دکھائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپر ہائی وژن جو کہ جاپانی ٹی وی براڈکاسٹر این ایچ کے نے تیار کر کے لندن اولمپکس کے لیے فراہم کیا ہے انتہائی واضع تصویریں بناتا ہے جو کہ عام ٹی وی کی تصویر سے بہت زیادہ جدید ہے۔

اب چونسٹھ سال بعد اولمپکس کے تیراکی کے مقابلے ٹی وی پر جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کر کے دکھائے جا رہے ہیں۔

سپر ہائی وژن جو کہ جاپانی ٹی وی براڈکاسٹر این ایچ کے نے تیار اور فراہم کیا ہے انتہائی واضع تصویریں بناتا ہے جو کہ عام ہائی ڈیفینیشن ٹی وی سے سولہ گنا واضع ہے جو اپنی جگہ ایک عام ٹی وی کی تصویر سے چار گنا واضع ہے۔

صرف تصویر ہی نہیں بلکہ سپر ہائی وژن کی آواز بھی نمایاں طور پر بہتر ہے۔ ایچ ڈی سراؤنڈ آواز پانچ اعشاریہ ایک چینل استعمال کرتا ہے جبکہ سپر ہائی وژن بائیس اعشاریہ دو چینلز کے ساتھ آواز پہنچاتے ہیں۔

میں نے ایک سو بیس دوسرے افراد کے ساتھ جنہوں نے اس نظام کے تحت پہلی نشریات لندن میں بی بی سی کی بارڈکاسٹنگ ہاؤس میں ایک خصوصی تین سو انچ کی سینیما سکرین پر دیکھنے کے لیے خاص طور پر بکنگ کی تھی۔

ٹم پلیمنگ جو کے بی بی سی کے اولمپکس کے لیے مختلف سسٹمز کے ٹرائلز کی سربراہی کرتے ہیں نے کہا کہ وہ اولمپکس مقابلوں میں ہونے والی جدت کی تاریخ میں اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اولمپکس کی وسعت ایک بہترین تجربہ گاہ بنتی ہے اور جتنے بڑے قدم ٹیکنالوجی کے میدان میں لیے گئے ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں چاہے وہ بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین ٹی وی ہو یا عام سے ہائی ڈیفینیشن اور اب الٹرا ہائی وژن، ان سب کا آغاز اولمپکس کھیلوں سے ہی ہوا‘۔

پلیمنگ کا کہنا تھا کہ سپر ہائی وژن کی آواز اور تصویر اتنی واضع ہے کہ ایسا لگتا ہے آپ شیشے کی دیوار کے دوسری طرف سٹیڈیم میں یا پانی کی مقابلوں کے مرکز میں دیکھ رہے ہیں۔ دوسرے براڈکاسٹرز کا دعوی ہے کہ یہ ایک تصویر میں گم کر دینے والا تجربہ ہے بس ایسا لگتا ہے کہ آپ وہیں پر ہیں۔

دوسری طرف بعض ٹیکس دینے والے افراد نے سوال کیا ہے کہ کیا یہ بی بی سی کے بجٹ کا بہتر استعمال ہے۔

بی بی سی کی ویب سائٹ پر ایک صارف نے رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’سپر ہائی وژن پر عزت اور وقار کے لیے پیسہ اور وسائل کو خرچ کرنا کوئی قابل عزت بات نہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب بی بی سی بچت اور کٹوتیاں کر رہا ہے‘۔

لیکن ویب سائٹ پر ہی دوسرے لوگ ان سے متفق نہیں تھے جیسا کہ ایک نہ لکھا ’ اگر یہ براڈکاسٹنگ اور ویڈیو کے دور اندیش لوگوں کی بدولت نہ ہوتا تو ہم آج بھی چار سو پانچ لائنوں والا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھ رہے ہوتے۔

میرے ساتھ دیکھنے والوں کا کیا تاثرتھا؟ یہ کہنا آسان ہو گا کہ ان کے ہوش اڑ گئے تھے۔

ایک لندن کی خاتون نے کہا کہ ’آواز بہت زبردست تھی اور تصویر بہترین اور بہت واضع‘۔ ایک دوسرے نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ سٹیڈیم کے اندر ہیں ماحول کا حصہ ہیں‘۔

ایک فرانسیسی شخص نے کہا کہ وہ پانی کے کھیلوں کے مرکز میں سنیچر کو جا چکا ہے اور اِن دونوں کا موازنہ بہت اچھا تھا۔ ’ایسا لگتا تھا کہ آپ وہیں ہیں‘۔

میں ان سے اتفاق کرتا ہوں کیونکہ اگر آپ کو ٹکٹ نہ ملے تو یہ تجربہ اس کے بعد بہترین ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی لندن اولمپکس کے دوران پچیس ہزار گھنٹے کی ہائی ڈیفینیشن ٹی وی نشریات دکھائے گا۔

لیکن ابھی لندن اور گلاسگو میں ہونے والی نمائشوں کے لیے کچھ ٹکٹ باقی ہیں جن کی بکنگ بی بی سی کی ویب سائٹ سے کی جا سکتی ہے جبکہ بریڈ فورڈ میں ہونے والی نمائش کی بکنگ نیشنل میڈیا میوزیم کے ذریعے ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کے اولمپکس ٹی وی ٹیکنالوجی کی نمائش براڈکاسٹنگ ہاؤس میں جاری ہے جہاں پر آپ انیس سو اڑتالیس کے اولمپکس کی کچھ نشریات اور استعمال ہونے والا ایک کیمرہ بھی دیکھ سکتے ہیں ہے۔

لیکن سپر ہائی وژن کے برطانیہ کی دکانوں پر ملنے کی توقع مت کیجئے گا کیونکہ لاس اینجلس اولمپکس کے بعد بیس سال لگے اس ٹیکنالوجی کو برطانوی گھروں میں پہنچنے میں اور اس ٹیکنالوجی کو گھروں تک پہنچنے میں ابھی کچھ سال لگیں گے۔ اور اس پر اٹھنے والا خرچہ ایک طرف، کس کے پاس گھر میں تین سو انچ کی سکرین رکھنے کی جگہ ہے؟

اسی بارے میں