’کامیاب لینڈنگ کی ذمہ داری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مریخ پر زندگی کے شواہد جمع کرنے کے لیے بنایا جانے والا مہنگا ترین اور جدید ترین روبوٹ ہے: تصویر بشکریہ ناسا

میگال سان مارٹن کو وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے جب انہوں نے طے کیا تھا کہ وہ سپیس انجینیئر بنیں گے۔

’سنہ ایس سو چھہتر میں موسم سرما کی ایک سرد رات کو اپنے والدین کے فام میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے ساتھ ریڈیو پر بی بی سی کی شاٹ ویو نشریات پر مریخ کے ایک مشن سے متعلق رپورٹ سن رہا تھا۔‘

میگال سان مارٹن اس وقت سترہ برس کے تھے اور اپنے وطن ارجنٹائن میں مقیم تھے اور اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ بیس سال کے بعد وہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا میں مریخ کے آئندہ مشن کے ساتھ منسلک ہونگے۔ ناسا نے پاتھ فائنڈر نامی یہ مشن سال انیس سو ستانوے میں شروع کیا تھا۔

ناسا نے بلکل اسی وقت ایروناٹکس اور اس کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا شروع کیں جب انہوں نے ممتاز تعلیمی ادارے میسے چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی۔

ناسا کے ساتھ کام کرنے کے ستائیس سال کے بعد سان مارٹن کو اب ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ ناسا کی جانب سے گزشتہ سال نومبر میں مریخ پر بھیجی گئی ’کیوروسٹی‘ نامی خلائی روبوٹ گاڑی ستاون کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد مریخ پر پہنچ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سان مارٹن وہ جگہ دیکھا رہے ہیں جہاں منصوبے کے مطابق خلائی روبوٹ کیوروسٹی اترے گا

ناسا میں ’مارز سائنس لیبارٹری‘ یا ایم ایس ایل میں نیویگیشن اینڈ کنٹرول کے شبعے کے سربراہ کے طور پر ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ چھ اگست بروز پیر کو ’کیوروسٹی‘ کو محفوظ طریقے سے مریخ پر اتاریں۔

اور یہ کارنامہ سرانجام دینا کوئی آسان کام نہیں ہو گا، کیوروسٹی صرف ناسا کا انتہائی جدید روبوٹ نہیں ہے بلکہ اس پر ناسا کے دس جدید ترین سائنسی آلات پر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ یہ ناسا کا حجم کے لحاظ سے اب تک کا سب سے بڑا اور وزنی روبوٹ ہے جو اس سے پہلے سال دو ہزار تین میں مریخ پر بھیجے گئے ’سپرٹ اینڈ اپرچونٹی‘ کے حجم سے دوگنا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ ناسا کو مریخ پر لینڈ کرانے یا خلائی روبوٹ کو اتارنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لانا پڑی۔ اس میں گرم ہوا کے بیگ یا پیراشوٹ جو اس سے پہلے بھیجی گئے خلائی روبورٹس کو مریخ پر اتارنے پر استعمال ہوئے تھے لیکن تقریباً تین میٹر لمبی اور ایک ٹن وزنی کیوروسٹی روبوٹ میں یہ سسٹم کام نہیں کر پاتا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس مسئلے میں سان مارٹن کی صلاحتیں کام آئیں اور انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ایسا سافٹ وئیر تیار کیا جس کی مدد سے کیوروسٹی کو ایک ایسے پیچیدہ طریقہ کار کے تحت مریخ پر اتارا جائے گا جو اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا ہے۔

سان مارٹن نے لاس اینجلس میں اپنے گھر سے بی بی سی منڈو سروس کو بتایا کہ’بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ میں جوئے سٹیک یا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیوروسٹی کو کنٹرول کر رہا ہوں گا بلکہ ایسی طرح جیسے ویڈیو گیم کھیلی جاتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

’حقیقت میں عمل یہ نہ صرف ایک خودکار طریقے مکمل ہو گا بلکہ وہ اور ان کی ٹیم اس مرحلے میں کچھ نہیں کرے گی کیونکہ مریخ کا زمین سے فاصلہ اس قدر زیادہ ہے کہ اس عمل میں وقت کے لحاظ سے وہاں سے سگنل زمین پر پہنچنے میں چودہ منٹ کا ڈیلے یا تاخیر کا سامنا ہو گا۔‘

وقت میں تاخیر کے علاوہ یہ جاننے کے لیے خلاء میں کیا ہو رہا ہے ناسا کی ٹیم کے پاس بہت کم فیڈ بیک یا وہاں سے حاصل ہونے والی معلومات دستیاب ہونگی۔ اس کے علاوہ ناسا اس مرحلے کو تصویری شکل میں دیکھ نہیں پائے گا اور صرف قریبی مصنوعی سیاروں کی جانب سے بھیجی جانے والے کوڈ میں معلومات دستیاب ہونگی۔ اس کے علاوہ جب مختلف میکانی نظام کام کرنا شروع کریں گے تو ریڈیو فریکوئنسی کی آوازیں بدلنا شروع ہونگی اور ان معلومات کی مدد سے سراغ لگا جا سکے گا کہ کیا ہو رہا ہے۔

گرینج کے معیاری وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ بجے کیوروسٹی مریخ پر پہنچے گا اور ماہرین کی اس وقت سانسیں تقریباً سات منٹ تک رکھی رہیں گی کیونکہ اس وقت مشن کا سب سے مشکل مرحلہ انجام پذیر ہو گا۔

یہ وہ وقت ہو گا جب ایک راکٹ سے جڑے حفاظتی کیپسول سے ایک پاور کرین کیورسٹی کو باہر نکال کر اس کی منزل اور مریخ پر سب سے گہرے مقام گیل کریٹر میں اتارے گا۔

سان مارٹن کے مطابق’ہم ان سات منٹ کو جہنم کے لمحات کہتے ہیں، کیوروسٹی مریخ کی فضا میں بیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہو گا اور اس کے ٹھیک سات منٹ کے بعد اس کو ہر صورت میں مریخ پرمحفوظ طریقے سے اترنا ہو گا، ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک کیپسول میں بند ایک ٹن وزنی یہ خلائی گاڑی چھ اگست کو مریخ پر پہنچے گی: تصویر بشکریہ ناسا

اس کے لیے لینڈنگ کے عمل میں حصہ لینے والے تمام چھہتر نظاموں کو بغیر کسی گڑبڑ کے کام شروع کرنا ہو گا۔

کیوروسٹی مشن ایک ٹکڑے کی شکل میں مریخ پر اترنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو گڑھے میں موجود پتھروں کا معائنہ کرے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ سیارے پر ماضی میں کبھی زندگی کے آثاتر تھے کہ نہیں۔

بہت سارے لوگ پرامید ہیں کہ دو ارب پچاس کروڑ ڈالر کے اس منصوبے کی مدد سے ان سوالات کے جواب ملے گے جو سائنسدانوں کے صدیوں سے پیچھا کر رہے ہیں کہ کیا زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جس پر زندگی ہے۔

یہ ہی وہ معمہ ہے جس کو سان مارٹن نوجوانی سے حل کرنا چاہتے ہیں تاہم ناسا کے تجربہ کار سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کیوروسٹی کا کامیابی کی دارو مدار بلآآخر صرف خوش قسمتی پر منحصر ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خلائی گاڑی جسے مریخ پر سائنسی تجربہ گاہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناسا کے مطابق کیوراسٹی میں موجود پلوٹونیم بیٹری کی مدد سے یہ دس سال تک کام کر سکتی ہے

’ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اپنی تحقیق کے لیے سب سے اچھا مقام منتخب کیا جائے لیکن محدود معلومات کی روشنی میں ایسی جگہوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سائنس سے زیادہ ایک آرٹ ہے۔

کیوروسٹی کے محفوظ طریقے سے لینڈنگ کے بارے میں سان مارٹن کا کہنا ہے کہ’ہم نے ان تمام خطرات اور پہلووں کا اچھی طرح سے جائزہ لیا ہے جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ ان کو ہم کنٹرول کر سکتے ہیں جسیا کے ہوا کا پہلو۔‘

’لیکن جو چیزیں مجھے رات کو جگائے رکھتے ہیں وہ ’نامعلوم اجنبی‘ہیں اور یہ غیر متوقع چیزیں مشن کو بربار کر سکتی ہیں، ‘

خطرات سے آگاہ کرنے کے باوجود سان مارٹن پرامید ہیں کہ تمام کام منصوبے کے مطابق ہونگے، اور ان کی پراعتمادی کی نشانی ہی ہے کہ انہوں نے لاس اینجلس کے ایک شراب خانے کو منتخب کیا ہے جہاں پر وہ اپنی ٹیم کے ساتھ اس وقت جشن منائے گے جب کیوروسٹی محفوظ طریقے سے سرخ سیارے پر اتر جائے گا۔

اسی بارے میں