مریخ: خلائی گاڑی سے پہلی رنگین پینوراما تصویر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 10 اگست 2012 ,‭ 11:52 GMT 16:52 PST

ناسا کی نئی مریخ گاڑی نے سرخ سیارے کی سطح سے پہلی تین سو ساٹھ ڈگری پینوراما تصویر بھیجی ہے۔

کیوروسٹی نامی روبوٹ گاڑی نے ایک اونچے مستول پر نصب وائیڈ اینگل کیمرے کی مدد سے متعدد تصاویر لیں جنہیں جوڑ کر یہ پینوراما بنایا گیا۔

اس چوڑی تصویر کے وسط میں ایک بڑا پہاڑ نظر آ رہا ہے جو گیل گڑھے کے درمیان واقع ہے۔ یہ وہ گڑھا ہے جس کے اندر کیوروسٹی اتری تھی۔

کیوروسٹی کا حتمی مقصد اس پہاڑ کی چوٹی کے دامن تک جا کر اس کی چٹانوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ یہ چوٹی ’ماؤنٹ شارپ‘ کہلاتی ہے۔

ناسا کے مرکزی تحقیق کار مائیک ملن نے بتایا ’یہ بہت کم ریزولیوشن والی تصویر ہے۔ انفرادی تصاویر صرف ایک سو چوالیس ضرب ایک سو چوالیس پکسل ہیں۔ کل ایک سو تیس تصاویر ہیں جنہیں لینے میں ایک گھنٹا اور چھ منٹ لگے۔‘

انہوں نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فل ریزولیوشن پینوراما چونسٹھ گنا بڑا ہو گا، جب کہ اس کی ریزولیوشن آٹھ گنا زیادہ ہو گی۔ لیکن ہم نے سوچا کہ یہ تصویر اس قابل ہے کہ اسے آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کیا جا سکے۔‘

تصویر کے رنگ اصلی ہیں۔ فریموں کو جوڑنے اور تصویر کو تھوڑا سا روشن کرنے کے سوا اس میں کوئی اور تبدیلی نہیں کی گئی۔

فل ریزولیوشن والے فریم فی الحال کیمرے کی میموری میں موجود ہیں لیکن دو میگا بائٹ فی تصویر کے حساب سے انہیں زمین تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔

کیوروسٹی میں دو کیمرے نصب ہیں جو مل کر سٹیریو یا تھری ڈی تصاویر بنا سکتے ہیں۔ یہ کیمرے مریخ گاڑی کے سائنسی مشن کی منصوبہ بندی اور اس بات کا فیصلہ کرنے میں بے حد اہم ثابت ہوں گے کہ گاڑی کس طرف لے جانی ہے اور کس چٹان پر تحقیق کرنی ہے۔

مریخ گاڑی

مریخ گاڑی بلیک اینڈ وائیٹ کیمروں کی مدد سے خود اپنی تصویر بنا رہی ہے۔ تصویر میں وہ بڑے کنکر بھی نظر آ رہے ہیں جو گاڑی کے اترتے وقت اچھل کر ڈیک پر آ گئے تھے

مریخ گاڑی بلیک اینڈ وائیٹ کیمروں کی مدد سے خود اپنی تصویر بنا رہی ہے۔ تصویر میں وہ بڑے کنکر بھی نظر آ رہے ہیں جو گاڑی کے اترتے وقت اچھل کر ڈیک پر آ گئے تھے

بڑی تصویر کے لیے

مریخ گاڑی اپنے آلات کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ ماؤنٹ شارپ پر موجود چٹانوں کے بنتے وقت مریخ پر کیا حالات تھے، اور آیا اس سیارے کی تاریخ میں ایسا کوئی دور گزرا ہے جب وہاں کسی قسم کی جراثیمی زندگی موجود ہو۔

کیوروسٹی مریخ گاڑی کا مشن امریکی شہر پیسا ڈینا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے چلایا جا رہا ہے اور سائنس دانوں کی ایک بڑی ٹیم گاڑی کے مستقبل میں کیے جانے والے کام کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

اس ٹیم نے گاڑی کی لینڈنگ سائیٹ کے آس پاس کے علاقے کو ایک اعشاریہ تین ضرب ایک اعشاریہ تین کلومیٹر کے ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے جن کا تفصیلی نقشہ، اور ان کے اندر موجود چٹانوں کے خدوخال مرتب کیے جا رہے ہیں۔

مشن کے سائنس دان ڈان سمر کا کہنا ہے’ہم اس نقشے کو استعمال کر کے بنیادی ہدف یعنی ماؤنٹ شارپ کے دامن تک جانے والے راستے کا تعین کریں گے۔‘

چوٹی کا دامن ساڑھے چھ کلومیٹر دور ہے اور وہاں پہنچنے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔