ایشیائی ممالک کو بڑی قدرتی آفات کا سامنا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 16:08 GMT 21:08 PST

دو ہزار گیارہ قدرتی آفات سے پہنچنے والے نقصانات کے حساب سے سب سے مہنگا سال تھا جب تین سو اسی ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے۔

ایک تجزیے کے مطابق ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں جن میں بھارت، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن شامل ہیں قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔

اس تجزیے کے مصنف نے ان اقوام کی معاشی سرگرمیوں، قدرتی آفات جیسا کہ سیلاب، خشک سالی، زلزلے اور سمندری طوفانوں جیسے خطرات کی زد میں ہونے کی بنیادوں پر درجہ بندی کی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقوام کی ان قدرتی آفات کے بعد بحالی کی محدود صلاحیت ان کے لیے زیادہ شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ یہ تجزیہ ایک قدرتی آفات کے اٹلس کی صورت میں ایک خطرات کا تجزیہ کرنے والی فرم میپل کرافٹ نے تیار کیا ہے۔

گزشتہ سال دو ہزار گیارہ قدرتی آفات سے پہنچنے والے نقصانات کے حساب سے سب سے مہنگا سال تھا جب تین سو اسی ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے۔

ان نقصانات میں اضافے کی بنیادی وجہ دوہزار گیارہ میں جاپان میں آنے والا زلزلہ اور سونامی تھے جن سے نقصانات کا تخمینہ دو سو دس ارب ڈالر تھا

اس تجزیہ میں جن دوسرے ممالک کے بارے میں خطرات کا اظہار کیا گیا ہے ان میں چین، میکسیکو، ہندوستان، جنوبی کوریا، ترکی، بنگلہ دیش اور ایران شامل ہیں۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ ممالک دنیا کی ترقی کرنے والی اقوام میں سے ہیں جس کی وجہ سے ایسے کاروبار جو ان ممالک سے کسی طور منسلک ہیں وہ خطرہ کی زد میں آسکتے ہیں۔ اس لیے اس تجزیے میں یہ زور دیا گیا ہے کہ ایسے کاروبار اپنی آفات سے بچاؤ اور ان کے بعد بحالی کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کریں اور ان میں اضافہ کریں۔

"بحرالکاہل کا رنگ آف فائر انڈونیشیا، فلپائن، جاپان اور تائیوان کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے جس کی وجہ سے یہ ممالک زلزلے اور جاپان کی طرح بعد میں آنے والے سونامیوں کی لپیٹ میں بھی آسکتے ہیں۔"

ہیلن ہوج

اس تجزیے کے لکھنے والی ایک مدیرہ ہیلن ہوج نے کہا کہ ’بحرالکاہل کا رنگ آف فائر انڈونیشیا، فلپائن، جاپان اور تائیوان کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے جس کی وجہ سے یہ ممالک زلزلے اور جاپان کی طرح بعد میں آنے والے سونامیوں کی لپیٹ میں بھی آسکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان آفتوں کے بعد بڑے دریاؤں میں سیلاب بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ہیلن ہوج نے مزید کہا کہ خشک سالی کے خطرات بھی ہیں جب مون سون دیر سے آتا ہے یا اس کے نتیجے میں بارشیں کم ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خاص خطرہ نہیں ہے بلکہ کئی خطرات کا جمع ہونا ہے جو اس خطے میں زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ خطہ زیادہ خطرات کا زیادہ مرکز ہے۔

اس اٹلس کے مطابق مستقبل میں موسم کی شدت کی حوالے سے ہونے والی قدرتی آفات بدتر ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور ان کی وجہ سے عالمی معیشت پر ان کی اثرات میں اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔