اورگینک خوراک ’مقابلتاً صحت مند نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 15:26 GMT 20:26 PST

اس تحقیق کے لیے محقیقین نے دو سو سے زائد تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا جو کہ اورگینک اور نان اورگینک خوراک کے بارے میں کئے گئے تھے۔

امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق اورگینک کھانے کی اشیا آپ کو صحت مند نہیں بناتیں اگرچہ وہ آپ پر کیڑے مار ادویات کے اثرات کو کم کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے ناقد کہتے ہیں یہ تحقیق ابھی تک بے نتیجہ ہے اور یہ معاملہ مزید تحقیق طلب ہے۔

اس تحقیق کے لیے محققین نے دو سو سے زائد تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا جو کہ اورگینک یعنی کہ ایسی سبزیاں، پھل اور اجناس جن کے اگانے میں کسی قسم کی مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کا استعمال نہ کیا گیا ہو اور نان اورگینک خوراک کے بارے میں تھے۔

عمومی طور ہر ان تحقیقات سے کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جو ان کے غذائی اجزا میں فرق بتا سکے لیکن یہ بات پتا چلی کہ اورگینک خوراک میں کیڑے مار ادویات کا اثر تیس فیصد کم ہوتا ہے۔

یہ تحقیق جو ایک طبی جریدے ’اینلز آف انٹرنل میڈیسن‘ میں شائع ہوئی ہے میں سترہ مطالعات کا جائزہ لیا۔ ان میں مختلف لوگوں کا جائزہ لیا گیا جو اورگینک اور نان اورگینک خوراک کھاتے ہیں۔

اسی طرح اس مطالعے میں دو سو تئیس مزید مقالہ جات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں غذائیت، بیکٹیریا، فنگس یا کیڑے مار ادویات کے درجوں کا تجزیہ کیا گیا تھا جس میں پھل، سبزیاں، اجناس، دودھ اور انڈے شامل تھے۔

انسانوں پر کیے جانے والے مطالعات میں کسی میں بھی دو سال سے زیادہ کا عرصہ صرف نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے طویل مدتی نتائج کا حصول ناممکن تھا اور اس کے ساتھ ساتھ تمام مہیا شواہد کمزور اور بہت زیادہ فرق والے تھے۔

اس بات کو محققین تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب فرق زمین کی اقسام اور موسم کی وجہ سے ہے۔

"صارفین اورگینک اشیاء کا انتخاب بہت ساری مختلف وجوہات کی بناء پر کرتے ہیں، لیکن یہ تازہ جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ وقت میں روایتی خوراک اور اورگینک خوراک میں غذائیت کی بنیاد پر کوئی قابل یقین فرق نہیں ہے۔"

لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر ایلن ڈینگور

اس تحقیق کے نتائج برطانیہ کی خوراک کے معیار کی ایجنسی کی ایک تحقیق کے نتائج سے بھی مطابقت رکھتے ہیں جس کا آغاز کچھ سال پہلے اورگینک خوراک کے بارے میں دعووں کی تصدیق کے لیےکیا گیا تھا۔

لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر ایلن ڈینگور جنہوں نے یہ تحقیق کی کا کہنا ہے کہ ’صارفین اورگینک اشیا کا انتخاب بہت ساری مختلف وجوہات کی بنا پر کرتے ہیں، لیکن یہ تازہ جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ وقت میں روایتی خوراک اور اورگینک خوراک میں غذائیت کی بنیاد پر کوئی خاطر خواہ فرق نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید یہ کہا ’امید ہے کہ یہ شواہد صارفین کے لیے فائدہ مند ہوں گے‘۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر سمتھ سپینگلر کا یہ کہنا تھا کہ اس بات کی بہت ساری وجوہات ہیں کہ لوگ اورگینک خوراک کیوں کھانا پسند کرتے ہیں جیسا کہ جانوروں کی بہبود یا ماحولیاتی خدشات۔

انہوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اورگینک خوراک زیادہ صحت منداور غذائیت والی ہوتی ہے جسے جان کر ہمیں کافی حیرت ہوئی تھی۔ اگر آپ بالغ ہو کر صرف اپنی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں تو روایتی اور اورگینک خوراک میں کچھ خاص فرق نہیں ہے۔

لیکن سوئل یا ارضیاتی ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس تحقیق میں خامیاں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔