انسانی جینوم کا مفصل تجزیہ جاری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 ستمبر 2012 ,‭ 23:34 GMT 04:34 PST

سائنسدانوں نےانسانی جینوم کا ایک انتہائی مفصل تجزیہ جاری کیا ہے جس میں متحرک انسانی ڈی این اے کوڈ کے بارے میں انتہائی اہم معلومات ملی ہیں۔

محقیقین کا خیال ہے کہ اس نئی تحقیق سے کئی بیماریوں کی وجوہات کا مزید گہرائی سے مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا۔

برطانیہ، امریکہ، سپین ، سنگاپور اور جاپان کے چار سو سے زیادہ سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم نے انسانی جینوم کی تحقیق سے متعلق تیس مضامین تین مختلف جریدوں، نیچر، جینوم بائیولوجی اور جینوم ریسرچ میں شائع کیے ہیں۔

’انسائیکوپیڈیا آف ڈی این اے پراجیکٹ‘ کو دو ہزار تین میں شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد انسانی جنیوم میں متحرک حصوں کا پتہ لگانا تھا۔

اس تحقیق کے دوران تین ارب اجزا پر مبنی انسانی جیناتی کوڈ کا از سر نو جائزہ لیا گیا۔

سائنسدانوں کو پتہ چلا ہے کہ انسانی جسم کا اسی فیصد جینوم حیاتیاتی طور پر متحرک اور مخصوص کردار ادا کر رہا ہے۔ ابھی تک صرف دو فیصد جینوم پر توجہ دی جاتی تھی اور باقی جینوم کو ’جنک‘ یا ناکارہ جینوم قرار دیا جاتا تھا۔

اس پراجیکٹ کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر ایوان بیرنی نے کہا کہ ناکارہ ڈی این ای کی اصطلاح کو اب ختم کر دیا جانا چاہیے کیونکہ تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی جینوم کا بڑا حصہ حیاتیاتی طور پر فعال ہے۔

ڈاکٹر ایوان بیرنی کا کہنا ہے کہ نئی معلومات کی مدد سے انسانی بائیولوجی کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔