ہار جیت کے درمیان فرق: ایک لمحہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 14:46 GMT 19:46 PST
ہاشم آملہ

اچھے کھلاڑیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس شاٹ کھیلتے وقت تھوڑا سا زیادہ وقت ہوتا ہے

آپ نے اعلیٰ پائے کے کھلاڑیوں کے بارے میں اکثر سُنا ہو گا کہ ان کے پاس کھیلنے کے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔ نیورو سائنس کے ماہرین کے مطابق یہ بات کسی نہ کسی حد تک حقیقت پر مبنی ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق جب کوئی شخص جسمانی ایکشن کے لیے تیار ہوتا ہے تو اسے وقت آہستگی سے گزرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی کھلاڑی پاس لینے یا گیند پر ضرب لگانے کے لیے تیار ہوتا ہے تو اس کا یہ عمل اس طریقے پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے تحت دماغ معلومات کو برتتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اول درجے کے کھلاڑئوں میں یہ صلاحیت ممکنہ طور پر زیادہ ہوتی ہے۔

لندن یونیورسٹی کے ڈاکٹر نوبوہیرو ہاگورا کہتے ہیں ’(سابق ٹینس کھلاڑی) جان میکنرو نے کہا تھا کہ جب وہ گیند کو ضرب لگاتے ہیں تو انہیں وقت کی رفتار کم ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح فارمولا ون کے ڈرائیور بھی اوورٹیک کرتے وقت کچھ ایسے ہی تجربے سے گزرتے ہیں۔‘

’ہمارا اندازہ ہے کہ جب پٹھے ایکشن کے لیے تیار ہوتے ہیں تو دماغ کے اندر بصری معلومات کو برتنے کی استعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے وقت کی رفتار سست پڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر ہاگورا کو وقت کی کشادگی کے احساس پر تحقیق کا خیال ان کے وطن جاپان میں بیس بال کی لمبی ہِٹیں لگانے والے کھلاڑیوں کو دیکھ کر آیا۔ تاہم یہ نظریہ دنیا بھر کے کھیلوں میں مقبول ہے کہ بڑے کھلاڑیوں کے پاس اہم فیصلے کرتے ہوئے زیادہ وقت ہوتا ہے۔

اِن سنی سنائی باتوں کو پرکھنے کے لیے یو سی ایل کی ٹیم نے بہت سادہ تجربات کیے جن میں رضاکاروں کو سکرین پر بنتے مٹتے دائروں کو دیکھا کر ان کا ردِعمل پر غور کیا گیا تھا۔

کچھ شرکاء کو کہا گیا تھا کہ وہ سکرین کو چھوئیں جب کہ دوسروں کو بازو ہلائے بغیر ہی ردِعمل دکھانے کے لیے کہا گیا تھا۔

"ممکن ہے کہ وقت میں کشادگی کی وجہ سے بڑے کھلاڑیوں کو ایک فالتو لمحہ مل جاتا ہو جس کے دوران وہ شاٹ کھیلتے وقت آخری وقت میں ردوبدل کر سکیں۔"

اس تجربے سے سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ جن شرکاء کو کہا گیا تھا کہ وہ سکرین کو چھوئیں انہیں محسوس ہوا کہ ان کے پاس زیادہ وقت ہے، بنسبت ان شرکاء کے جنہیں بازو نہیں ہلانا تھا۔

وقت سست پڑنے کے اس احساس کی ٹھیک ٹھیک جسمانی وجوہات معلوم نہیں ہیں، تاہم ممکنہ طور پر اس کا تعلق اس بات سے ہو سکتا ہے کہ دماغ کتنی سہولت سے آنکھوں سے آنے والی معلومات کے بہاؤ میں اضافہ کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر ہاگورا نے بی بی سی کو بتایا ’اب ہم شرکاء کے دماغ کی سرگرمیوں کو ای ای جی کی مدد سے پرکھتے ہوئے ان تجربات کو دہرانا چاہتے ہیں۔ اس طرح ہمیں معلوم ہو گا کہ ایکشن کے لیے تیار ہوتے وقت دماغ کے بصری حصے میں کیا ہو رہا ہوتا ہے۔‘

یو سی ایل کی تحقیقاتی ٹیم اب اعلیٰ کھلاڑیوں پر تجربات کرے گی۔

ہو سکتا ہے کہ اس تحقیق میں پایا جانے والا تعامل اعلیٰ کھلاڑیوں کے دماغ میں زیادہ مضبوط ہو، اور ان کی یہ ہی سبقت کسی حد تک ان کی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ ہو۔

مثال کے طور پر ممکن ہے کہ وقت میں کشادگی کی وجہ سے بڑے کھلاڑیوں کو ایک فالتو لمحہ مل جاتا ہو جس کے دوران وہ شاٹ کھیلتے ہوئے آخری وقت میں ردوبدل کر سکیں۔اکثر و بیشتر ہار اور جیت کے درمیان فرق یہی ایک لمحہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔