سورج کی کرنوں سے ٹی بی کا علاج ممکن

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 08:22 GMT 13:22 PST
ٹی بی کا وائرس

ایک جائزے کے مطابق ٹی بی کی بیماری ہر برس تقریبا پندرہ لاکھ افراد لوگ مر جاتے ہیں

لندن میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سورج کی کرنوں سے حاصل ہونے والا وٹامن ڈی انسانی جسم کو ٹی بی کے وائرس سے لڑنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

ٹی بی کی جان لیوا بیماری سے ہر برس تقریباً پندرہ لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

سائنسدان اور ڈاکٹروں کو تشویش ہے کہ ٹی بی کے بعض ایسے معاملات سامنے آ رہے ہیں جن کا علاج ہی ممکن نہیں ہے۔

پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی بی کے بعض مریض وٹامن اور اینٹی بائیوٹک ادویات سے جلد صحت یاب ہوگئے۔

حالانکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی بی کے مریض کومسلسل یہ دونوں دوائیاں دینے سے پہلے ان کے مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

اینٹی بائیوٹک ادویات کی دریافت سے پہلے ٹی بی کے مریضوں کو دھوپ میں لیٹنے کے لیے کہا جاتا تھا جس کو ہیلیو تھیراپی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سے مریض کے جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار میں اضافہ ہوتا تھا۔

حالانکہ اینٹی بائیوٹک کے ذریعے کامیاب علاج کے بعد دھوپ کے ذریعے علاج کا پرانا طریقہ استعمال ہونا بند ہوگیا۔

حالیہ جائزہ میں ٹی بی کے پچانوے مریضوں کو اینٹی بائیوٹک اور وٹامن ڈی کی گولیاں دی گئیں۔ یہ دوائیں دینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وٹامن ڈی دینے کے بعد مریضوں کی طبیعت تیزي سے ٹھیک ہونے لگی۔ ماضی کے برعکس دو ہفتے پہلے ہی مریض ٹھیک ہونے لگے۔

لندن کی کوین میری یونیورسٹی ڈاکٹر ایڈرئن مارٹینو کا کہنا ہے’اس سے اینٹی بائیوٹک کا استعمال ختم نہیں ہوگا بلکہ یہ( وٹامن ڈی) ایک اضافی ہتھیار ہو سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’اس نئے تجربے سے تعقات وابستہ ہیں حالانکہ ہمیں مزید پختہ شواہد کی ضرورت ہے۔‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی اور اینٹی بائیوٹک سے نمونیے جیسی بیماری کے علاج کے لیے بھی استمعال کی جا سکتی ہے۔

وہیں لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر ایلیسن گرانٹ کا کہنا تھا’ٹی بی کی بیماری پوری دنیا میں ایک تشویش کا باعث ہے اور اگر نئی ادویات سے ٹی بی کی بیماری کا جلد علاج ممکن ہوسکتا ہے تو یہ خوشی کی بات ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔