برنرز لی کی عالمی ویب درجہ بندی جاری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 17:28 GMT 22:28 PST

اس درجہ بندی میں مختلف ممالک کو سات مختلف معیارات پر پرکھ کر ایک درجہ بندی میں رکھا گیا ہے۔

انٹرنیٹ کے بانی سمجھے جانے والے ٹِم برنرز لی کی عالمی ویب فاؤنڈیشن نے مختلف ممالک کی ویب کے استعمال اور اس کے اثرات کے حساب سے ایک فہرست جاری کی ہے۔

اس درجہ بندی کے اعداد و شمار کے حساب سے سویڈن بہترین ملک ہے جس کے بعد دوسرے درجے پر امریکہ اور تیسرے درجے پر برطانیہ ہے۔

اس درجہ بندی کی تیاری کے لیے اکسٹھ ممالک میں ویب کے سیاسی اور سماجی اثرات کو مدنظر رکھ کر صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے ۔

اس جائزے کے نتیجے میں یہ پتا چلا ہے کہ دنیا میں عمومی طور پر تین افراد میں سے ایک ویب کا استعمال کرتا ہے جبکہ افریقہ میں یہ شرح چھ میں سے ایک سے بھی کم ہے۔

اس درجہ بندی کے لیے کیے گئے جائزے میں سنسر شِپ اور انٹرنیٹ کو ویب تک رسائی میں رکاوٹوں کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔

اس درجہ بندی میں پچھلے سات سالوں کے ڈیٹا کو استعمال کر کے مختلف ممالک کو سات مختلف درجوں میں تقسیم کر کے پیش کیا گیا ہے۔

اس درجہ بندی کے دس سر فہرست ممالک

  1. سویڈن
  2. امریکہ
  3. برطانیہ
  4. کینیڈا
  5. فِن لینڈ
  6. سوئٹزرلینڈ
  7. نیوزی لینڈ
  8. آسٹریلیا
  9. ناروے
  10. آئر لینڈ

ان سات درجوں میں ایک مواصلاتی نظام یعنی ویب کی فراہمی کے لیے درکار وسائل اور نظام کا مہیا ہونا ہے۔

دوسرا اداروں کا نظام جیسا کہ تعلیمی ادارے، قوانین، ضوابط اور سنسرشِپ۔

تیسرا یہ کہ کس قسم کا متعلقہ اور مفید مواد ویب پر موجود ہے۔

چوتھا یہ کہ ملک میں کس حد تک ویب کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پانچواں درجہ ویب کے سیاسی اثر ، چھٹا درجہ معاشی اثر اور ساتواں درجہ سماجی اثر کے بارے میں ہے۔

اس درجہ بندی کے مطابق آئس لینڈ میں آبادی کے سب سے زیادہ افراد یعنی پچانوے فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

آئرلینڈ نے معاشی اثرات کے حوالے سے سب زیادہ پوائنٹس حاصل کیے جو کہ اس کی مجموعی قومی پیداوار کا چودہ اعشاریہ آٹھ فیصد ہے۔

مشرق وسطیٰ کا ملک یمن تین درجوں جن میں ویب کے سماجی اور معاشی اثرات شامل ہیں سب سے نیچے رہا ہے۔

اس درجہ بندی میں سب سے نیچے ممالک

  1. نیپال
  2. کیمرون
  3. مالی
  4. بنگلہ دیش
  5. نمیبیا
  6. ایتھیوپیا
  7. بینن
  8. بورکینا فاسو
  9. زمبابوے
  10. یمن

سر ٹم برنرز لی نے اس درجہ بندی کو جاری کرنے کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ویب پر لگائی گئی قدغنوں پر روشنی ڈالنے والی یہ درجہ بندی ایک طاقتور ہتھیار بن کر فرد واحد، حکومتوں اور تنظیموں کو تقویت دے گی تاکہ وہ اپنے معاشرے کی بہتری میں مدد حاصل کر سکیں‘۔

اس درجہ بندی کے حساب سے تیس فیصد ممالک ویب تک رسائی پر درمیانے درجے سے شدید قسم کی پابندیاں لگاتے ہیں جبکہ ان میں سے آدھے ممالک صحافت کی آزادی کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں۔

سر ٹم برنرز نے کہا کہ ’ویب ایک عالمی گفتگو ہے اور آزادی اظہار کو آن لائن یا آف لائن دبانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ویب کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں‘۔

اس جائزے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جہاں مغربی یورپ میں انٹرنیٹ کے حصول کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں وہاں ایسے بہت سارے ممالک ہیں جن میں انٹرنیٹ ایک عیاشی سمجھا جاتا ہے۔

سر ٹم برنرز نے کہا کہ ’ویب تک رسائی کی قیمت زیادہ رکھنا اربوں لوگوں کو علم اور اس عالمی گفتگو میں حصہ لینے سے روکتا ہے۔ قیمتوں میں ڈرامائی کمی ضروری ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔