چیتے کی تیز رفتاری کا راز فاش

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 ستمبر 2012 ,‭ 12:55 GMT 17:55 PST
چیتا

چیتے کی رفتار کے بارے میں ہمیشہ ایک تجسس رہا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دوڑ لگاتا ہوا چیتا ’پچھلے پہیوں کی طاقت پر چلنے والی کار کی طرح ہے‘۔

جاپانی تحقیق کاروں نے بلی کے خاندان کے اس بڑے جانور کے پٹھوں کے ریشوں یا فائبر کی طاقت کی پیمائش کی ہے تاکہ اس کی ریکارڈ رفتار کے راز کا پتہ لگایا جا سکے۔

گھریلو بلی اور کتے سے چیتے کے پٹھے کا موازنہ کرتے ہوئے سائنسدانوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ چیتے میں حرکت دینے والی مخصوص قوت ان کے پچھلے پٹھوں میں پوشیدہ ہے۔

اس مطالعے میں پہلی بار چیتے کے جسم کے تمام حصوں کے پٹھوں کے ریشوں یا فائبر کی جانچ کی گئی ہے اور یہ مطالعہ سائنسی جریدے ’میمیلیئن بائیولوجی‘ میں شائع ہوا ہے۔

اس ریسرچ پیپر کی معاون مقالہ نگار اور جاپان کی یاماگوچی یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ناؤمی واڈا نے کہا ہے کہ ’چیتے کی دوڑ کو سمجھنے کے لیے ان کے پٹھوں کا مطالعہ ناگزیر ہے‘۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پٹھوں کے مختلف قسم کے ریشے مختلف اقسام کے کاموں لیے موزوں ہوتے ہیں۔

تمام جانوروں میں ٹائپ ون فائبر تھوڑی قوت فراہم کرنے کا باعث ہوتا ہے لیکن تھکان کو زیادہ برداشت کرتا ہے اور انھیں چہل قدمی اور بہتر ڈھنگ سے چلنے میں معاون ہوتا ہے۔

قابل رشک صلاحیت

"زیادہ تر ریئر وھیل ڈرائیوکار چیتے کی رفتار حاصل کرنے کی قابل رشک صلاحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ یہ تین سکنڈ سے بھی کم میں صفر سے ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لیتا ہے"

ڈاکٹر ناؤمی واڈا

ٹائپ ٹو اے قسم کا فائبر تیز قدموں سے چلنے میں معاون ہوتا ہے اور ٹائپ ٹو ایکس یا ’فاسٹ‘ فائبر زیادہ قوت پیدا کرنے کے عمل میں کام آتا ہے جس سے تیز دوڑنے اور جست لگانے میں مدد ملتی ہیں لیکن اس میں زیادہ قوت برداشت نہیں ہوتی ہے۔

چیتے کے مختلف پٹھوں کے فائبر کی جانچ سے جانوروں کے دوڑ لگانے کی قوت کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

چیتے کی فائبر کی پیمائش میں یہ پایا گیا ہے کہ پنجوں کے عضلے کے فائبر زیادہ تر ٹائپ ون ہیں جبکہ پچھلے پاؤں کے پٹھوں میں زیادہ تر ٹائپ ٹو ایکس فائبر ہیں۔

ڈاکٹر واڈا نے کہا ’چیتوں میں آگے کے پیروں کے کام اور پیچھے کے پیروں کے کام میں واضح فرق ہے۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چیتوں میں رفتار ان کے پچھلے پاؤں سے آتی ہے۔ یہ ایسا ہی جیسے یہ کوئی ریئر وھیل ڈرائیو کار ہو۔

ڈاکٹر واڈا نے کہا کہ ’یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ چیتے کے پچھلے قدموں میں زیادہ فاسٹ فائبر نہیں ہوتے ہیں جبکہ اگلے قدموں میں یہ زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ چیتا اپنی رفتار، مڑنے یا گھومنے اور رکنے کے عمل کو اس کے ذریعے ہی کنٹرول کرتا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔