ذیابطیس سے چھاتی کے سرطان کا زیادہ امکان

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 08:03 GMT 13:03 PST

ذیابطیس اور چھاتی کے سرطان کو اکثر وزن میں زیادتی سے منسلک کیا جاتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابطیس ٹائپ ٹو میں مبتلا بڑی عمر کی خواتین میں چھاتی کا سرطان ہونے کا امکان ستائیس فی صد زیادہ ہوتا ہے۔

برٹیش جرنل آف کینسر نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے ذیابطیس اور چھاتی کے سرطان کے درمیان ممکنہ تعلق کو سمجھنے کے لیے چالیس مختلف تحقیقات کا جائزہ کیا۔

ان تحقیقات میں چھاتی کے سرطان میں مبتلا چھپن ہزار خواتین نے حصہ لیا تھا۔

وزن کا زیادہ ہونا بھی دونوں بیماریوں سے منسلک ہے۔ تاہم سرطان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابطیس اور چھاتی کے سرطان کے درمیان براہِ راست تعلق کا امکان بھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ذیابطیس ٹائپ ٹو میں مبتلا کم عمر کی خواتین یا ٹائپ ون ذیابطیس کی خواتین کا چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا کوئی غیر عمومی امکان نہیں ہے۔

اس رپورٹ پر کام کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور انٹرنیشنل پریونشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے صدر پیٹر بوئل کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس وقت یہ معلوم نہیں کہ ٹائپ ٹو کی ذیابطیس چھاتی کے سرطان کا امکان کیوں بڑھا دیتی ہے۔‘

’ایک طرف تو ان دونوں بیماریوں کو اکثر وزن میں زیادتی سے منسلک کیا جاتا ہے تاہم اس بات کو خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا کہ ذیابطیس کے اثرات چھاتی کے سرطان کو جنم دے سکتے ہیں۔‘

’کینسر ریسرچ یو کے‘ میں نرسوں کے معلوماتی سربراہ مارٹن لیڈوک کا کہنا ہے کہ ’اس رپورٹ سے یہ واضح نہیں کہ بڑی عمر کی خواتین میں ذیابطیس براہِ راست چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھتی ہے تاہم زیادہ وزن دونوں بیماریوں کا امکان پیدا کرتا ہے، اس وجہ سے خواتین کے لیے وزن پر قابو پانا ہی بہتر ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔