بہتر لاکھ ڈالر کے پاپ کارن

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 15:23 GMT 20:23 PST
وین واٹسن

وین واٹسن کا کہنا ہے کہ جب سے انہیں اِس بیماری کی تشخیص ہوئی ہے انہوں نے مائکرو ویو میں تیار ہونے والے پاپ کارن نہیں کھائے

امریکہ میں ایک شخص نے بہتر لاکھ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ جیت لیا ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ مائکرو ویو میں تیار ہونے والے پاپ کارن کی بھاپ سے اُسے پاپ کارن لنگ نامی بیماری ہو گئی ہے۔

پاپ کارن لنگ نامی بیماری میں پھیپڑوں میں زخم ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہوا باہر نہیں نکل پاتی۔

کولوراڈو کی عدالت میں جیوری نے وین واٹسن کی اِس بات سے اتفاق کیا کہ کمپنی کی جانب سے پاپ کارن کے تھیلے پر یہ وارننگ ہونی چاہیے تھی کہ اِس میں سے نکلنے والے بخارات خطرناک ہو سکتے ہیں۔

اِس مقدمے میں وکلاء صفائی کا کہنا تھا کہ مسٹر واٹسن نے کئی برس تک ایسی جگہ کام کیا ہے جہاں قالینوں کی صفائی میں استعمال ہونے والے کیمیکلز ہوتے تھے اور یہی اُن کی خرابیِ صحت کی وجہ ہے۔ انہیں دو ہزار سات میں سانس کی بیماری ہو گئی تھی۔

یہ مقدمہ ایسے کئی حالیہ مقدمات میں سے ایک ہے جس میں مدعی کامیاب ہوئے ہیں جن میں پاپ کارن پلانٹ کے ملازمین بھی شامل ہیں جو بیمار ہو گئے تھے۔ اِن مقدمات میں پاپ کارن میں استعمال ہونے والے ایک جزو ڈایاسٹائل اور خرابیِ صحت کے درمیان تعلق ثابت ہو گیا تھا۔

جیوری نے پاپ کارن بنانے والی کمپنی ’گلسٹر میری لی‘ کو اسی فیصد جبکہ سپر مارکیٹ کمپنی کو بیس فیصد اخراجات ادا کرنے کے لیے کہا۔

وین واٹسن کا کہنا ہے کہ جب سے انہیں اِس بیماری کی تشخیص ہوئی ہے انہوں نے مائکرو ویو میں تیار ہونے والے پاپ کارن نہیں کھائے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔