کینسر کے خلاف جنگ میں روبوٹ شامل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 14:09 GMT 19:09 PST

سائنس دانوں کو امید ہے کہ سانپ نما یہ روبوٹ رسولیوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے تلف کر سکتا ہے۔

بے داغ میز پر لیٹے ہوئے ایک شخص کے جسم میں ایک فٹ لمبا سانپ روبوٹ آہستگی سے حرکت کرتے ہوئے جگر تک پہنچ رہا ہے۔

سانپ روبوٹ رکتا ہے، دائیں طرف سونگھتا ہے اور پھر دائیں طرف مڑ کر پسلیوں کے پیچھے سرک جاتا ہے۔

یہ ایک طبی روبوٹ ہے جسے ایک ماہر سرجن چلا رہے ہیں۔اس کا مقصد ایسی جگہوں تک پہنچنا ہے جہاں مریض کے جسم کو کھولے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا۔

یہ ایک ابتدائی نمونہ ہے، اور اسے ابھی تک حقیقی مریضوں میں استعمال نہیں کیا گیا۔لیکن برطانیہ کے شہر برسٹل میں قائم روبوٹ ساز کمپنی او سی روبوٹکس کا کہنا ہے کہ جب یہ روبوٹ منظور ہو جائے تو یہ رسولیوں کو ڈھونڈ کر کے انھیں تلف کر سکتا ہے۔

یہ مشینی سانپ کینسر کے علاج کے لیے پیش کی جانے والی ان کئی جدید ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے جنھیں اس ہفتے برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس برائے آنکولوجیکل انجینیئرنگ میں پیش کیا گیا۔

ان میں سے کئی آلات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، لیکن برطانیہ کے ادارے کینسر ریسرچ کی صفیہ دنووی نے کہا کہ اس مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے تحقیق اور ایجاد بہت ضروری ہیں۔

’کینسر کا اہم علاج سرجری ہے، اس لیے نئی ٹیکنالوجیز بے حد اہم ہیں جو سرجری اور بھی درست اور مؤثر بنا سکیں۔‘

’کی ہول سرجری اور روبوٹکس جیسی ایجادات کینسر کے مریضوں کے علاج میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہیں، اور اس رجحان کو جاری رہنا چاہیے۔‘

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال تیرہ فیصد اموات کینسر کے باعث ہوتی ہیں۔

اگرچہ بعض کینسروں کے علاج میں آپریشن کے بغیر کام چل جاتا ہے، اکثراوقات سرجنز کو مریض کا جسم کھولنا پڑتا ہے، جس کے الگ خطرات ہیں۔

"ہم مریض کو سکین کر سکتے ہیں، اس کے جگر کا رگوں سمیت تھری ڈی ماڈل بنا سکتے ہیں، اور اس ماڈل میں ہم رسولیوں کو دیکھ کر سرجن کو بتا سکتے ہیں کہ کہاں سے کاٹنا ہے۔"

او سی روبوٹکس کے مینیجنگ ڈائریکٹر روب بکنگھم کہتے ہیں کہ سانپ روبوٹ سے سرجن کو کیمرے اور بے حد حساس آلات استعمال کر کے مریض کے جسم کے اندر کو’محسوس‘ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

سانپ روبوٹ کو ایک ایسے سرجیکل نظام کے شانہ بشانہ استعمال کیا جا سکتا ہے جسے گذشتہ عشرے میں ایک امریکی سرجیکل کمپنی نے تیار کیا تھا۔

یہ نظام ایک قدِ آدم روبوٹ کی مانند ہے جس کے چار ’بازو‘ ہیں جن کے آگے چمٹی نما آلات لگے ہوئے ہیں۔اس نظام کو داونچی مشین کہا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ روبوٹ ازخود سرجری نہیں کر سکتا، اس کی مدد سے ڈاکٹروں کو پیچیدہ آپریشنوں کو زیادہ درست اور کم دخل انداز (اِن ویسو) بنانے کا موقع ملتا ہے۔

داونچی مشین کو ایک سرجن کنٹرول کرتا ہے جو ایک قریبی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے اور ایک سکرین پر جسم کا وہ حصہ دیکھتا رہتا ہے جس کی سرجری ہونی ہو۔ سرجن پیڈل اور لیور دبا کر مشین کو کنٹرول کرتا ہے۔

جسم کے اندر حرکت کرتے آلات

سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف برن کے سائنس دانوں نے ایک مریض کے بدن میں ایک دوا داخل کی۔ جب یہ رسولی تک پہنچی تو روشنی ڈالنے پر یہ چمکنے لگی۔ یہی ٹیکنالوجی ایسے آلات میں بھی استعمال کی جاتی ہے جو جسم کے اندر حرکت کرتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے جی پی ایس کی مدد سے راستہ تلاش کیا جاتا ہے۔

داونچی مشین بے حد مہنگی ہونے کے باوجود دنیا کے کئی ہسپتالوں میں نصب کی گئی ہے۔اس پر بائیس لاکھ ڈالر کے قریب لاگت آتی ہے۔

کانفرنسں میں پیش کی جانے والی ایک اور مشین ایک لمبا ’بازو‘ ہے جسے مائروسرج کہا جاتا ہے۔ اسے جرمن ایروسپیس سینٹر ڈی ایل آر نے تیار کیا ہے۔

یہ بھی ابتدائی شکل میں ہے لیکن اس کی ایک انجینیئر سوفی لینٹرمین نے کانفرنس میں اس کی ٹیکنالوجی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ طویل مدت میں یہ روبوٹ داونچی مشین کے مقابلے میں زیادہ ہرفن مولا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف برن کے سائنس دانوں نے ایک مریض کے بدن میں ایک دوا داخل کی۔ جب یہ رسولی تک پہنچی تو روشنی ڈالنے پر یہ چمکنے لگی۔ یہی ٹیکنالوجی ایسے آلات میں بھی استعمال کی جاتی ہے جو جسم کے اندر حرکت کرتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے جی پی ایس کی مدد سے راستہ تلاش کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف برن کے سٹیفن ویبر کہتے ہیں ’سرجیکل آلات کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے تاکہ جب ایک طبی آلہ جسم کے اندر حرکت کرے تو سرجن کمپیوٹر سکرین پر اسے دیکھ سکے۔‘

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال تیرہ فیصد اموات کینسر کے باعث ہوتی ہیں

’اگر آپ جگر کو دیکھیں تو یہ آپ کو یکساں نظر آئے گا، لیکن آپ دیکھنا چاہیں گے کہ رسولیاں کہاں ہیں۔‘

’ہم مریض کو سکین کر سکتے ہیں، اس کے جگر کا رگوں سمیت تھری ڈی ماڈل بنا سکتے ہیں، اور اس ماڈل میں ہم رسولیوں کو دیکھ کر سرجن کو بتا سکتے ہیں کہ کہاں سے کاٹنا ہے۔‘

’پانچ سال قبل کے کمپیوٹروں کی مدد سے رگوں کی نشان دہی، ماڈل کو مریض کے جسم کے ساتھ سیدھ میں لانا ممکن نہیں تھا۔‘

لیکن کانفرنس میں ہونے والے تبادلۂ خیالات میں ایک اہم موضوع تھا کہ نئی ٹیکنالوجیوں کو اکٹھا کر کے کام میں لایا جائے۔

راب بکنگھم کہتے ہیں ’اگر سانپ روبوٹ جسم کے اندر اعضا کے پیچھے پہنچ سکتے ہیں، اور سنسروں کی مدد سے ہدف کی بالکل درست نشان دہی کر سکتے ہیں تو اس کا طبی فائدہ ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔