پونی ٹیل کی فزکس: اگ نوبل انعامات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 13:03 GMT 18:03 PST

سائنس دان پیٹرک وارن کہتے ہیں کہ بالوں کے طرزِ عمل کا مطالعہ ان کی کمپنی یونی لیور کے لیے بہت اہم ہے۔

اس امریکی برطانوی مشترکہ ٹیم نے اگنوبل انعام جیت لیا ہے جس نے ایک ایسا کلیہ معلوم کیا ہے جس کی مدد سے پونی ٹیل کی شکل پہلے ہی سے معلوم کی جا سکتی ہے۔

پیٹرک وارن، ریمنڈ گولڈسٹین، روبن بال اور جو کیلر نے اپنا انعام امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک پروقار تقریب میں حاصل کیا۔ اس تقریب کے سارے ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے۔

اگ نوبل انعامات زیادہ سنجیدہ نوبل انعامات کی ایک قسم کی پیروڈی ہیں۔

دوہزار بارہ میں دیے جانے والے دوسرے انعام یافتگان نے یہ معلوم کیا تھا کہ چمپینزی دوسرے چمپینزیوں کو پیچھے سے دیکھ کر کیسے پہچان لیتے ہیں اور یہ کہ حرکت کرتی ہوئی پیالی سے کافی کیونکر چھلک جاتی ہے۔

اگرچہ اس قسم کی تحقیق کسی قدر خبطی لگتی ہے لیکن درحقیقت اس کا مقصد حقیقی دنیا کے مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے اور یہ عالمانہ جرائد میں شائع ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر وارن جو برطانوی کمپنی یونی لیور سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ انھیں اپنا اِگ نوبل انعام پا کر بہت خوشی ہوئی ہے۔

انھوں نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے کہا ’مجھے حیرت ہے کہ میں نے جو کام کیا تھا اسے اس قدر توجہ ملی ہے۔‘

’میرا شعبہ شماریاتی فزکس ہے جس کا نام بھی بہت سے لوگوں نے نہیں سنا ہو گا، اس لیے میں بہت خوش ہوں کہ میں نے ایسا کوئی کام کیا جس پر لوگوں کی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔‘

ڈاکٹر وارن اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق کو ’پونی ٹیل کی شکل کا کلیہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس میں سر کے بالوں کی سختی، کششِ ثقل کے اثر، اور بالوں کے گھنگھریالے پن اور لہریہ دار ہونے جیسی خصوصیات کو مدِنظر رکھ کر یہ پیشِ گوئی کی جاتی ہے کہ پونی ٹیل کیسی بنے گی۔

جب بالوں کو پیچھے کی طرف باندھ دیا جائے تو یہ کلیہ بیان کر سکتا ہے کہ پونی ٹیل کی شکل کیا ہو گی۔

ڈاکٹر وارن کہتے ہیں ’میں خاصے عرصے سے اس پر کام کر رہا تھا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یونی لیور میں اس قسم کے کام پر کافی دلچسپی دی جاتی ہو گی کیوں کہ وہ بالوں کی کئی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔ لیکن اس (کلیے کے) کے باقی استعمالات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسی چیزیں جہاں بہت سے ریشے اکٹھے کر کے باندھے جاتے ہیں، جیسے کپڑے میں۔‘

’ممکن ہے اس تحقیق سے کمپیوٹر اینی میشن میں بھی مدد ملے کیوں کہ اینی میٹڈ فلموں میں بالوں کو قدرتی طریقے سے دکھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

جمعرات کے اگ نوبل انعامات کی تقریب ہارورڈ یونیورسٹی کے سینڈز تھیئٹر میں منعتقد کی گئی۔ جب سے امریکی مزاحیہ سائنسی رسالے اینلز آف امپروبیبل ریسرچ نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، یہ اپنی نوعیت کی بائیسویں تقریب ہے۔

اس تقریب میں اصل نوبیل انعام یافتگان بھی موجود ہوتے ہیں جو انعامات تقسیم کرتے ہیں۔ وصول کنندگان کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ایک منٹ دیا جاتا ہے۔ اگر وہ ساٹھ سیکنڈ سے زیادہ وقت لے لیں تو ایک چھوٹی سی لڑکی پکارنا شروع کر دیتی ہے ’بورنگ۔‘ تقریب کی ایک اور روایت یہ ہے کہ ہال میں موجود ہر شخص کاغذ کے بنے جہاز اڑاتا ہے۔

دوہزار بارہ کے فاتحین کی فہرست یہ ہے:

نفسیات: انیتا ایرلینڈ اور رولف زوان (نیدرلینڈ) اور ٹولیو گوانڈالوپ (پرو/روس/نیدرلینڈ)۔

کارنامہ: بائیں طرف جھک کر دیکھنے سے ایفل ٹاور چھوٹا لگتا ہے۔

امن: ایس کے این کمپنی (روس)

کارنامہ: پرانے روسی اسلحے کو ہیروں میں تبدیل کرنا

نیوروسائنس: کریگ بینیٹ، ابیگیل بیئرڈ، مائیکل ملر، اور جارج ولفورڈ (امریکہ)

کارنامہ: یہ دکھانا کہ دماغی سائنس دان پیچیدہ آلات اور سادہ شماریات استعمال کر کے دماغ کے عمل کر کہیں بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ ایک مردہ سامن مچھلی میں بھی۔

کیمسٹری: جوہان پیٹرسن (سویڈن/روانڈا)

کارنامہ: سویڈن کے ایک شہر کے بعض گھروں میں لوگوں کے بال سبز کیوں ہو گئے۔

ادب: امریکی حکومت اور دفترِ احتساب

کارنامہ: رپورٹوں کے بارے میں ایک رپورٹ کے بارے میں رپورٹ جاری کرنا جو سفارش کرتی ہے کہ رپورٹوں کے بارے میں رپورٹیں تیار کی جائیں۔

فلوئڈ ڈائنیمکس: روسلان کریچیکنی کوف (امریکہ/روس/کینیڈا)

کارنامہ: یہ معلوم کرنے کے لیے مائع کے چھلکنے کے عمل کا مطالعہ کرنا کہ جب کوئی شخص کافی کا بھرا کپ لے کر چلتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔

اناٹمی: فرانز ڈی وال (نیدرلینڈز/امریکہ) اور جینیفر پوکورنی (امریکہ)

کارنامہ: یہ دریافت کرنا کہ چمپینزی اپنے ساتھیوں کو ان کے کولہوں کی تصاویر دیکھ کر پہچان سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔