انسان جدا جدا، دماغ ایک جیسے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 02:53 GMT 07:53 PST

انسانی دماغ کے ایک تھری ڈی نقشے میں دکھایا گیا ہے کہ دماغ حیرت انگیز طور پر یکساں ہوتے ہیں اور ان کا بنیادی سالمیاتی (مالیکیولر) نقشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔

یہ نقشہ تین دماغوں کے نو سو حصوں کے جینیاتی تجزیے سے بنایا گیا ہے اور اس میں جینز کے اظہار کی دس کروڑ پیمائشیں شامل ہیں۔

امریکہ کی سیئیٹل یونیورسٹی کے ایلن انسٹی ٹیوٹ فار برین سائنسز اور سکاٹ لینڈ کی ایڈنبرا یونیورسٹی کی مشترکہ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ جینیاتی خرابی سے دماغی امراض کیسے پیدا ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی رسالے نیچر میں شائع ہو رہی ہے۔

انسانی دماغ دنیا کی پیچیدہ ترین چیز ہے۔ یہ دس کھرب خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے ابھی تک مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکا۔

تحقیق کے مصنفینن میں سے ایک ایلن انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ایڈ لین کہتے ہیں کہ اس نقشے سے ’دماغ کی کارکردگی، نشوونما، ارتقاء اور بیماری کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوں گی۔‘

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایک انسان کے دماغ کے جین دوسرے انسان کے دماغ کے جینز سے بہت زیادہ ملتے جلتے طریقے سے ظاہر ہوتے ہیں، جس سے پتا چلتا ہے کہ انسانوں کی شخصیات میں فرق کے باوجود دماغوں کی ساخت حیرت انگیز طور پر یکساں ہے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے نیوروسائنس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر سیٹ گرانٹ کہتے ہیں اگرچہ انسانی جینوم کی نقشہ بندی (سیکونسنگ) خاصا عرصہ پہلے کی جا چکی ہے، ’اب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس سے جین کس طرح تشکیل پاتے ہیں اور یہ جین انسانی دماغ میں کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔‘

"اگرچہ انسانی جینوم کی نقشہ بندی خاصا عرصہ پہلے کی جا چکی ہے، اب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس سے جین کس طرح تشکیل پاتے ہیں اور یہ جین انسانی دماغ میں کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔"

پروفیسر سیٹ گرانٹ

انسانی ذہن پر تحقیق سے قبل سائنس دان چوہے کے دماغ پر کئی برس سے اسی قسم کی تحقیقات کرتے رہے ہیں۔

لیکن چونکہ انسانی دماغ کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے، اس لیے انھیں بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لانا پڑی۔

ہر دماغ کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنے کے بعد سائنس دانوں نے ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے ہر ٹکڑے کا مشاہدہ کیا تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ جینز کا دماغ میں اظہار کس طرح ہوتا ہے۔

پروفیسر گرانٹ کہتے ہیں ’اس سے پہلے والی تحقیقات میں چوہے کے دماغوں میں انفرادی جینز کا مطالعہ کیا گیا تھا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کر کے جانچا کیا کہ وہ دماغ میں کہاں ظاہر ہوتے ہیں۔‘

’لیکن اب ہم نے دماغ کے ٹشو کا ہر چھوٹا ٹکڑا لیا اور تمام جینز کو ایرے ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ساتھ جانچ لیا۔‘

پروفیسر گرانٹ نے مزید کہا کہ اس سالمیاتی نقشے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس کو ایک ایسے فارمیٹ میں تیار کیا جائے جسے وہ سائنس دان بھی استعمال کر سکیں جو بالکل مختلف دماغی معاملات پر کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔