افریقہ:گوریلوں کے لیے محدود ہوتی جگہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 15:52 GMT 20:52 PST

گوریلوں کے رہنے کے علاقوں میں کمی کی جمایاں وجوہات میں ان کا گوشت کے لیے شکار اور جنگلات کی کٹائی ہے۔

جریدے ڈائیورسٹی اینڈ ڈسٹریبیوشن میں شائع ہونے والے سائنسدانوں کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ بن مانسوں جیسا کہ گوریلوں، چمپینزیز اور بونوبوس کے رہنے کے لیے جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

براعظم افریقہ میں ہونے والے اس پہلے جائزے میں ان جانوروں کے رہنے کے لیے مناسب جگہوں میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔

مشرقی گوریلے جو اس خطے کے سب سے بڑے رہائشی ہیں کو انیس سو نوے کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ اپنے رہنے کی جگہوں سے محروم ہونا پڑا ہے۔

اسی طرح کراس ریور گوریلا یا مغربی گوریلا، چمپینزیز اور بونبوس بھی بڑی تعداد میں اپنے رہنے کی جگہوں سے محروم ہوئے ہیں۔

جرمنی کے شہر لائیپژخ کے میکس پلینک انسٹیٹیوٹ برائے اینتھروپولوجی سے تعلق رکھنے والے ییلمار کوہل نے اس جائزے کو مرتب کرنے میں مدد دی۔

ییلمار کے مطابق ’بہت سارے جائزے جن میں کچھ موقع پر اور کچھ ملکی سطح پر کیے گئے پتا لگایا گیا کہ افریقہ کے بن مانسوں کی آبادی بہت شدید دباؤ اور تنزلی کا شکار ہے‘۔

لیکن اس کے بعد بھی محسوس کیا گیا کہ ایک وسیع تناظر سے اس آبادی کا جائزہ غائب تھا جس کے بعد براعظم کی سطح پر ایپس کے رہنے کے علاقوں کے ایک جائزے کی ضرورت تھی۔

اس جائزے کو دو حصوں میں کیا گیا جس کے پہلے حصے میں پچھلے بیس سالوں میں ایپس کی رہائش کی پندرہ ہزار جگہوں کی نشاندہی کی گئی جہاں یقینی طور پر ان کی رہائش کے ثبوت تھے۔

اس میں جائزہ لیا گیا کہ جنگلات کی کیا شرح ہے اور انسانی آبادی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ موسم کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس کے بعد محققین نے ان ماحولیاتی حالات کا جائزہ لیا جو گوریلوں کے رہنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

اس کے بعد ان اعدادوشمار کو سامنے رکھ کر محققین نے پہلے انیس سو نوے میں پائے گئے رہنے کے علاقوں کے بارے میں پیش گوئی کی اور پھر دو ہزار میں باقی رہنے والے ان علاقوں کے اعدادوشمار جمع کیے۔

اس کے نتائج بہت پریشان کن تھے جن کے حساب سے مغربی گوریلاز کے لیے انسٹھ فیصد رہنے کے علاقے کم ہوئے، مشرقی گوریلے جو کہ براعظم کا سب سے بڑا گروہ ہیں نے باون فیصد علاقہ کھویا۔

اس کے اسباب میں مغربی افریقہ میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی اور شکار ہے۔

وسطی افریقہ میں سب سے بڑی وجہ ان گوریلوں کا شکار ہے جنگلی جانوروں کے گوشت کے شکاریوں کی جانب سے حالانکہ ان علاقوں میں جنگلات بہت بہتر حالت میں ہیں۔

اس تحقیق اور جائزے میں حصہ لینے والے سائنسدانوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ابھی اس تحقیق کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک واضح اور مجموعی تصویر بن سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔