وائٹ ہاؤس کو سائبر حملے کا سامنا

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 21:26 GMT 02:26 PST

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ’سپیئر فشنگ‘ کی ایک کوشش تھی

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اسے ایک سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم اس کا نشانہ ایک ایسا نیٹ ورک بنا جس پر خاص معلومات موجود نہیں تھیں۔

واشنگٹن میں امریکی صدر کے دفتر کے ایک انتظامی اہلکار نے امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس چیز کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ہیکرز نے کوئی معلومات چرائی ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے اتوار کو یہ خبر دی تھی کہ چینی حکومت سے وابستہ ہیکرز نے وائٹ ہاؤس کے فوجی دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ’سپیئر فشنگ‘ کی ایک کوشش تھی اور ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس حملے کا ماخذ چین تھا یا نہیں۔

’سپیئر فشنگ‘ میں اصل لگنے والے جعلی ای میل پیغامات میں نقصان دہ ویب سائٹس اور فائلز کو بطور اٹیچمنٹ بھیجا جاتا ہے۔

انتظامی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر امریکی میڈیا کو بتایا کہ ’اس قسم کے حملے اکثر ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے پاس ان کے سدباب کے انتظامات موجود ہیں‘۔

امریکہ میں سائبر سکیورٹی کے اعلیٰ اہلکار ریئر ایڈمرل سیموئل کاکس نے گزشتہ ہفتے ہی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین سے جڑے ہیکرز کے پینٹاگون سمیت امریکی حکومتی اداروں پر سائبر حملوں میں تیزی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی محکمۂ دفاع کے خلاف ان کی کوششیں ہمہ وقت جاری رہتی ہیں‘۔

دو ہزار گیارہ میں گوگل نے چین کے ہیکرز پر امریکی انتظامیہ کے سینیئر اور فوجی اہلکاروں سمیت سینکڑوں افراد کے جی میل اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی برس نومبر میں امریکہ کے خفیہ اداروں کے حکام کی جانب سے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر چین پر امریکہ کا ہائی ٹیکنالوجی ڈیٹا چرانے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔