انسانی خلیوں کی تحقیق پر نوبیل انعام

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 14:02 GMT 19:02 PST

محقیقین نے جی پرٹین نامی ریسیپٹرز پر کام کیا ہے جو خلیوں کی دیوار کے ذریعے معلومات لیتے ہیں۔

دو امریکی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کیمیا میں انسانی خلیوں پر تحقیق کرنے پر نوبیل انعام جیت لیا ہے۔

انھیں یہ انعام انسانی جسم میں اربوں خلیوں کے باہر کا ماحول کا تفصیلی مطالعہ کرنے پر ملا ہے۔

دونوں امریکی سائنسدان رابرٹ لیفکویٹز اور برائن کوبیلکا ایک اشاریہ دو ملین امریکی ڈالرز کے انعام میں حصہ دار ہوں گے۔

یہ تحقیق خلیوں کے درمیان معلومات کی ترسیل کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے میں بہت کار آمد ثابت ہوئی ہے۔

میری لینڈ میں ہاورڈ ہیوز میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹررابرٹ لیفکویٹز کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے اندر نیورو ٹرانسمیٹرز اور ہارمونز کے لیے یہ ریسیپٹرز گزرگاہ کا کام دیتے ہیں۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریسیپٹرز معلومات فراہم کرنے والے مالیکیول کو پکڑتے ہیں اور ایسی جگہ فٹ ہوتے ہیں کہ تمام عضویاتی عمل میں نظم و ضبط پیدا کرتے ہیں۔ ایک طبیب ہونے کے ناطے بیماری کی صورت میں ہمیں ان ریسپٹرز کے نقل حرکت کو کنٹرول کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر رابرٹ لیفکویٹز نے رسیپٹرز پر تحقیق کرتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ خلیوں کے ممبرین کے درمیان پیغمات کی ترسیل کیسے ہوتی ہے۔

ڈاکٹر برائن کوبیلکا آج کل سٹینفرڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا میں ہیں۔ انھوں نے ان ریسیپٹرز کے جنیاتی پہلو کا مطالعہ کیا اور تحقیق کرنے کی کوشش کی کہ کونسے جینز ان ریسیپٹرز کو بناتے ہیں۔

نوبل کمیٹی نے دونوں سائنسدانوں کی تحقیق کو بنی نوع انسان کے لیے مفید قرار دیا ہے۔

کیمیا میں سب سے پہلے نوبل انعام ہالینڈ کے جیکبس وانٹ ہوف کو اوسماٹک پریشر پر تحقیق کرنے کے اعزاز میں دیا گیا تھا۔

کیمیا میں اب تک نوبیل انعام حاصل کرنے والوں کی تعداد ایک سو تریسٹھ ہے۔

پیر کو سنہ دو ہزار بارہ کے میڈسن کے شعبے کا نوبیل انعام برطانیہ کے جاہن گورڈن اور جاپان کے شینیا یامانکا کو بالغ خلیوں کو سٹم خلیوں میں تبدیل کرنے پر دیا گیا ہے۔

منگل کو فرانس کے سرج ہروش اور امریکہ کے ڈیوڈ وائن لینڈ کو مشترکہ طور پر طبیعات کا نوبل انعام دیا گیا۔

ان سائنسدانوں کو یہ انعام روشنی اور ذرات پر بنیادی تحقیق کرنے پر ملا۔

ادب اور امن کے لیے نوبیل انعام کا اعلان اس ہفتے کے آخر میں کیا جائے گا۔ .

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔