کیوروسٹی:مریخی مٹی کا تجزیہ شروع

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 17:05 GMT 22:05 PST

خلائی گاڑی جسے مریخ پر سائنسی تجربہ گاہ بھی کہا جاتا ہے

ناسا کی کیوروسٹی مریخ گاڑی نے تجزیے کے لیے سرخ سیارے کی مٹی کا پہلا نمونہ حاصل کر لیا ہے۔

گاڑی پر لگے ایک مخصوص آلے ’چی من‘ نے چٹکی بھر مریخی مٹی اٹھا لی ہے۔ یہ دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر مالیت کے اس مشن کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔

ناسا کے سرکردہ سائنس دان جان گروٹزنگر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہماری متحرک تجربہ گاہ کی سب سے ہم بات یہ ہے کہ یہ مٹی کھاتی ہے۔‘

چی من حاصل کردہ نمونے میں موجود دھاتوں کا ایکس رے ڈفریکشن کی مدد تجزیہ کرے گی۔

ناسا کے انجینیئروں کو جمعرات کے روز معلوم ہوا کہ آلے نے نمونہ قبول کر لیا ہے اور اس کے تجزیے کی رپورٹ اگلے ہفتے تک سامنے آئے گی۔

مریخی مٹی وہ ہلکا ترین اور باریک ترین مواد ہے جو آلے نے اپنے چمچے، چھاننی اور دوسرے مخصوص آلات کی مدد سے اٹھایا ہے۔

اس سے تحقیق کاروں کو یہ پتا چلانے میں مدد ملے گی کہ مریخ کی سطح پر موجود مٹی کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں۔

دھاتی اجزائے ترکیبی

بالآخر ہم ان ذروں کے ذریعے پورے سیارے کی دھاتی اجزائے ترکیبی کا پتا چلا سکتے ہیں۔ صرف مقامی حصے کا نہیں، صرف آس پاس کے پتھروں کا نہیں، بلکہ اس مواد کا جو پورے سیارے پر بگولا بن کر گھومتا ہے۔ اس لیے یہ تجزیہ اتنا زبردست ہے۔‘

مٹی کے یہ ذرے ایک ملی میٹر کے دسویں حصے کے برابر یا اس سے چھوٹے ہیں۔ اتنے باریک ہونے کی وجہ سے مریخ کی تیز و تند ہوائیں ان ذروں کو دور دور تک اڑا لے جاتی ہیں۔

پروفیسر گروٹزنگر نے بتایا کہ یہ ذرے مریخ کی سطح پر خاصے بڑے علاقے کا سفر کرتے ہیں اور ممکن ہے وہ پورے مریخ کا چکر بھی لگاتے ہوں۔

’ہم دیکھتے ہیں کہ گرد کے یہ طوفان پورے سیارے کا سفر کرتے ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ یہ ذرے پورے سیارے کی سطح پر یکساں مقدار میں بچھے ہوئے ہیں۔‘

’بالآخر ہم ان ذروں کے ذریعے پورے سیارے کی دھاتی اجزائے ترکیبی کا پتا چلا سکتے ہیں۔ صرف مقامی حصے کا نہیں، صرف آس پاس کے پتھروں کا نہیں، بلکہ اس مواد کا جو پورے سیارے پر بگولا بن کر گھومتا ہے۔ اس لیے یہ تجزیہ اتنا زبردست ہے۔‘

کیوروسٹی کے آلات اس نمونے میں نامیاتی مواد کی موجودگی کا پتا چلانے کی بھی کوشش کریں گے، جس سی معلوم ہو گا کہ آیا مریخ پر ماضیِ بعید میں کبھی زندگی پائی جاتی تھی یا نہیں۔

خلائی گاڑی جسے مریخ پر سائنسی تجربہ گاہ بھی کہا جاتا ہے سیارے پر زندگی کے شواہد جمع کرنے کے لیے اب تک بنایا جانے والا سب سے مہنگی اور جدید ترین روبوٹ گاڑی ہے اور ناسا کے اس مشن پر ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔