’امریکی بچے عمر سے پہلے بالغ ہو رہے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 21 اکتوبر 2012 ,‭ 13:28 GMT 18:28 PST
ایک نوجوان لڑکا

سائسندانوں کا کہنا ہے کہ نوجوان بچوں میں موٹاپا اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے

امریکہ کے سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں پہلے کے مقابلے تیزی سے بالغ ہو رہے ہیں۔

امریکہ میں بچوں کے علاج کے ادارے امریکن اکیڈمی آف پیڈریاٹرکس نے سنیچر کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں امریکی نوجوانوں کے بالغ ہونے کی صحیح عمر معلوم کرنے کے بارے میں تحقیق کی گئی۔

تحقیق کے اعتبار سے اسے ایک انتہائی بھروسہ مند رپورٹ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے امریکہ کی اکتالیس ریاستوں میں چار ہزار لڑکوں پر تحقیق کی گئی تھی جن کی عمر چھ سے سولہ برس کے درمیان تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں پہلے جو لڑکوں کے بالغ ہونے کی صحیح عمر مانی جاتی تھی اب وہ اس سے چھ مہینے یا کبھی کبھی دو سال پہلے ہی بالغ ہو جاتے ہیں۔

اس پہلے ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ لڑکیاں بھی پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑی ہو رہی ہیں۔

دو ہزار دس میں امریکن اکیڈمی آف پیڈریاٹرکس کی جانب سے پیش کی گئی ایک رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ لڑکیاں پہلے کے مقابلے جلدی بالغ ہو رہی ہیں۔

سائنسی تحقیق پر مبنی یہ دعویٰ صرف امریکی سائنسدانوں نے ہی نہیں کیا تھا بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ لڑکیاں جلدی بالغ ہو رہی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں کے کھانے کے طور طریقوں میں تبدیلی، جسمانی کام کاج نہ کرنا اور دیگر ماحولیاتی وجوہات جلد بالغ ہونے کی وجہ ہو سکتی ہیں۔

ان ساری وجوہات سے اس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ موٹاپا اس کی ایک اور اہم وجہ ہو سکتی ہے۔حالانکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ موٹاپے کی وجہ سے نوجوان بچے جلدی بالغ ہو جاتے ہیں یا جلد بالغ ہوجانے کی وجہ سے وہ موٹے ہوتے ہیں۔

حالانکہ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ میں رہ رہے مختلف نسل کے بچوں میں بالغ ہونے کی عمر میں فرق ہے۔

سیاح فام امریکی لڑکے نو سال کے ہوتے ہی بالغ ہوجاتے ہیں جب سفید فام اور ہسپانی نژاد کے امریکی بچے دس برس کی عمر کے بعد بالغ ہوتے ہیں۔

امریکن اکاڈمی آف پیڈریاٹرکس کے ڈاریکٹر رچرڈ واسرمین کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’اس کی حیاتی، جینیاتی اور ماحولیاتی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ وہ ہوسکتا ہے افریقی نسل کے امریکی بچوں کو کچھ ایسا ماحول ملا ہو جو سفید فام بچوں کو حاصل نہ ہو۔‘

وہیں دیگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق بچوں کی طریقہ پرورش سے بھی ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔