سوشل میڈیا پر زیادہ بحث نہیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 16:35 GMT 21:35 PST

اوباما ہو یا رومنی، دونوں کی خارجہ پالیسی ایک ہی رہے گی

امریکہ میں صدارتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار براک اوباما اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار میٹ رومنی کے درمیان تیسرے اور آخری مباحثے کے بارے میں سوشل میڈیا یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گزشتہ مباحثے جیسی سرگرمی نہیں دیکھی گئی۔

بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ اس مباحثے میں صدر اوباما واضح سبقت لیں گے اور ان کا تجربہ ان کی مدد کرے گا۔

سوشل میڈیا پر اس مباحثے کے بارے میں مذاق اور طنز بھی جاری رہا، جس میں رومنی کو زیادہ طنز کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر ان کے بائنڈرز والی بات کے حوالے سے جو انہوں نے گزشتہ مباحثے میں کی تھی۔

عمر قریشی نے کراچی سے طنزیہ ٹویٹ میں مٹ رومنی کی اس بات پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’ڈرون، ڈرون حملے میں استعمال ہوتے ہیں۔ آپ مذاق تو نہیں کر رہے نا رومنی صاحب۔‘

ہما امتیاز نے طنزیہ ٹویٹ میں لکھا کہ’بظاہر ریپبلکن آمروں کی حمایت نہیں کرتے۔‘

نجیب الرحمٰن نے فیس بک پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ صدر اوباما کے لیے جیتنا حلوہ ثابت ہو گا۔

کراچی سے محسن عباس کے مطابق ایسا لگ رہا تھا کہ ’رومنی صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کو ہی دہرائے جا رہے تھے، اوباما نے میرے خیال میں اس مباحثے میں واضح برتری حاصل کی۔‘

ریاض احمد نے فیس بک پر لکھا ہے کہ صدر اوباما ہو یا رومنی دونوں کی پالیسی پاکستان بلکہ مشرق وسطیٰ اور اس خطے میں ایک ہی رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے والی۔

اسامہ سعید نے دوحہ سے ٹویٹ کر کے کہا کہ رومنی نے مستقلاً اوباما کی خارجہ پالیسی پر اتفاق کیا تو یہ کوئی ٹاکرا تو نہ ہوا بلکہ اس بحث کا ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ یا عنوان ہونا چاہیے تھا کہ ’میں اوباما سے متفق ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔