انسانوں جیسی آواز نکالنے والی سفید وہیل

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 12:18 GMT 17:18 PST
سفید وہیل

ایک سفید وہیل انسانی آواز سے کافی مماثل اواز نکالنے کا اہلیت رکھتا ہے۔

امریکہ میں کا کہنا ہے کہ ایک سفید وہیل کی آواز اور اس کا لہجہ انسانوں سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ڈولفن کو انسانی بولی میں آواز کی طرز اور اس کے دورانیہ کی نقل سکھائی گئی ہے لیکن کسی بھی دوسرے جانور نے از خود اس طرح کی نقل نہیں کی۔

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ این او سی نام کی ایک سفید وہیل کو ٹوٹے پھوٹے لہجے میں اپنی معمول کی آواز سے دھیمے لہجے میں آٹھ سروں میں آواز نکالتے پایا گیا ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے اس کا انکشاف سائنس کے جریدے کرنٹ بائیولوجی میں کیا ہے کہ آخر این او سی نے ایسا کیسے کیا؟

پہلا راز تو یہی جاننا تھا کہ آخر یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے کیونکہ وہیل کو سمندر میں زبردست شور مچانے والے جاندار کے طور پر جانا جاتا ہے اتنا تیز شور کہ کان بہرے ہو جائیں۔

ان کے بارے میں انسانی آواز نکالنے کی باتیں تو ہوتی رہی ہیں لیکن کبھی اسے ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔

جب کیلیفورنیا کے نیشنل میرن میمل فاؤنڈیشن کے ایک غوطہ خور نے باہر نکلتے ہوئے یہ پوچھا کہ ’کس نے مجھے باہر نکلنے کے لیے کہا‘ تو تحقیق کاروں کو یہ لگا کہ ان کے ہاتھ ایک اور مثال لگ گئی ہے۔

ایک بار جب انھوں نے یہ جان لیا کہ این او سی ایسی آواز نکالنے کے جرم کا مرتکب ہے تو پھر انھوں نے اس کے ایسے کسی برتاؤ کی پہلی بار ریکارڈنگ کی۔

انھوں نے دریافت کیا کہ ان وہلیز کے حلق میں فی سکنڈ تین بار ارتعاش ہوتا ہے اور ان کے بیچ کا وقفہ انسانی قوت گویائی کے مماثل ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے یہ بھی پایا کہ ان میں انسانی آوازوں کی سی ہم آہنگی ہے۔ پھر انھوں نے کسی حکم پر اس سفید وہیل کو بات چیت کے جیسی آواز نکالنے کا طریقہ سکھایا۔

انھوں نے پایا کہ وہ آواز نکالنے کے لیے تیزی کے ساتھ اپنی ناک کے دباؤ میں تبدیلی لاتی ہے لیکن یہ کام اس کے لیے بہت آسان نہیں ہے۔

نیشنل میرن میمل فاؤنڈیشن کے صدر سیم رج وے کا کہنا ہے کہ ’ہمارے مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہیل کو انسانوں جیسی آواز نکالنے کے لیے ان کے صوتی نظام میں ذرا تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو آواز ہم نے سنی وہ سفید وہیل کی صوتی تعلیم کی مثال ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔