یورپ میں پہلی بار جین تھراپی منظور

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 14:59 GMT 19:59 PST

جین تھیراپی میں مریض کے خراب ڈی این اے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

یورپ میں پہلی بار ایک ایسا علاج منظور کر لیا گیا ہے جس کے ذریعے کسی مریض کے جینیاتی کوڈ میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

یورپی کمیشن نے گلائبیرا نامی اس دوا کو بیچنے کے اجازت دے دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے یورپ بھر میں فروخت کیا جا سکے گا۔

یہ جین تھراپی ایک ایسی بیماری کے علاج کے لیے ہے جس میں مریض چربی کو مناسب طریقے سے ہضم نہیں کر پاتا۔

دوا ساز ادارے کا کہنا ہے کہ یہ دوا اگلے سال سے دستیاب ہوگی۔

جین تھراپی کا اصول بڑا سادہ ہے۔ اگر کسی شخص کے جینیاتی کوڈ میں خرابی موجود ہے تو اس کوڈ کو تبدیل کر دیا جائے۔

البتہ اس شعبے کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ میں ہونے والے ایک تجربے کے دوران ایک مریض کو خون کا کینسر ہوگیا جب کہ ایک نوجوان ہلاک ہو گیا۔

یورپ اور امریکہ میں جین تھراپی کو صرف تحقیقاتی تجربہ گاہوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

گلائبیرا کو لپوپروٹین لائپیز نامی ایک انزائم کی قلت کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ہر دس لاکھ میں سے ایک شخص کے جینوں میں خرابی کی وجہ سے اس کے جسم میں یہ انزائم نہیں بنتا، جس کے باعث وہ چربی ہضم نہیں کر پاتا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خون کے اندر چربی کی مقدار بڑھتی جاتی ہے، جس سے پیٹ میں درد شروع ہو جاتا ہے اور مریض کو لبلبے کی مہلک سوزش لاحق ہو سکتی ہے۔

"گلائبیرا کی منظوری جین کے ذریعے علاج میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف لپوپروٹین کی قلت کے علاج میں بلکہ دوسری نادر بیماریوں کے علاج میں بھی مدد ملے گی جن کا کوئی علاج نہیں ہے۔"

اب تک اس مرض سے نمٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا، چربی والی خوراک سے پرہیز۔

اس علاج کو یونی کیور نامی کمپنی نے تیار کیا ہے، اور اس میں وائرس کی مدد سے پٹھے کے خلیوں میں صحت مند جین داخل کیے جاتے ہیں۔ یہ جین خراب جینوں کی جگہ لے کر انزائم بنانا شروع کر دیتے ہیں، جو چربی کو ہضم کرتے ہیں۔

یورپ کے ادویات کے ادارے نے دو ہزار بارہ کے اوائل میں کہا تھا کہ اس علاج کو ایسے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے جو شدید بیمار ہوں۔

یونی کیور کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر جورن آلڈیگ نے کہا ’یورپی کمیشن کی جانب سے گلائبیرا کی منظوری جین کے ذریعے علاج میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف لپوپروٹین کی قلت کے علاج میں بلکہ دوسری نادر بیماریوں کے علاج میں بھی مدد ملے گی جن کا کوئی علاج نہیں ہے۔‘

چین وہ پہلا ملک ہے جس نے باضابطہ طور پر جین تھراپی کی منظوری دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔