دل کی دھڑکن سے’پیس میکر‘ کے لیے توانائی

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 08:23 GMT 13:23 PST

محققین اس آلے کا تجربہ ایک اصل دل پر کرنا چاہتے ہیں

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن سے حاصل ہونے والی توانائی کی مدد سے اتنی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو ’پیس میکر‘ چلانے کے لیے کافی ہو۔

پیس میکر بیٹری سے چلنے والا ایک ایسا آلہ ہے جو دل کی دھڑکن اور نبض کو مستحکم رکھنے کا کام کرتا ہے تاہم فی الحال اس کی بیٹریاں تبدیل کرنے کے لیے متواتر آپریشنز درکار ہوتے ہیں۔

اب مشی گن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسے آلے کی تیاری کی تجویز دی ہے جو دل کی دھڑکن سے چارج ہو کر پیس میکر کو توانائی فراہم کرے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس آلے پر کلینکل تجربات کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقین ہو سکے کہ یہ مریضوں کے لیے محفوظ ہے۔

اس آلے کے ابتدائی تجربات میں دل کی دھڑکنوں کی مختلف رفتار سے اتنی بجلی پیدا کی گئی جو پیس میکر چلانے کے لیے کافی تھی۔

اب محققین اس آلے کا تجربہ ایک اصل دل پر کرنا چاہتے ہیں اور کامیابی کی صورت میں اسے کاروباری سطح پر تیار کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر امین کرامی نے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں بتایا ہے کہ پیس میکر کی بیٹری ہر سات سال بعد تبدیل کرنا پڑتی ہے۔ ’بہت سے مریض بچے ہوتے ہیں جو پیس میکر کے ساتھ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر اس نئی ٹیکنالوجی پر عمل ہو تو وہ بچے کتنے آپریشنز سے بچ سکتے ہیں‘۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے پروفیسر پیٹر ویزبرگ کا کہنا ہے کہ ’نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اب مریضوں کو پیس میکر کی بیٹری زیادہ نہیں بدلنی پڑتی اور یہ آلہ اسی سمت میں ایک اور قدم بن سکتا ہے‘۔

ان کے مطابق ’اگر محققین ٹیکنالوجی کو بہتر بنا سکیں اور کلینکل تجربات مثبت ہوں تو وہ بیٹری کی تبدیلیوں کی ضرورت کو مزید کم کر دےگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔