کینسر کے علاج کے لیے’کیمو باتھ‘

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 16:57 GMT 21:57 PST
کیموتھریپی

کینسر کے علاج کے لیے عام طور پر کیموتھریپی کا استعمال ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پہلی بار جگر کے کینسر کے لیے ’کیموباتھ‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس کے ذریعے کینسر کی دواؤں کو براہ راست اس مرض سے متاثر حصے تک پہنچایا جاتا ہے۔

کیمو تھریپی کے ذریعے تیزی سے پھیلتے کینسر کے خلیوں کو ختم کیا جاتا ہے لیکن یہ جسم کے دوسرے حصے کے صحت مند خلیوں کو بھی ماردیتا ہے۔

ساؤتھمپٹن کے جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف ایک عضو کو نشانہ بنانے سے اس کے سائڈ ایفکٹ یعنی دوسرے خراب اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریض کو مزید نقصان پہنچائے بغیر اس کے ذریعے زیادہ مقدار میں دوا دی جا سکتی ہے۔

عام طور پر کیموتھریپی کی ادویہ کو مریض کی نسوں میں سوئی کے ذریعے پیوست کیا جاتا ہے جس سے کینسر کے ٹیومر کے علاوہ دوسرے اعضاء بلکہ پورا جسم بھی متاثر ہوتاہے۔

اس کے دوسرے اثرات بھی مرتسم ہوتے ہیں جیسے تھکاوٹ، بیمار اور کمزوری محسوس کرنا، بالوں کا گرنا اور عمل تولید کی زرخیزی بھی متاثر ہوتی ہے۔

ابھی تک برطانیہ میں صرف دو مریضوں کی کیمو تھراپی کی گئی ہے اور وہ بھی جگر کی۔ دونوں آنکھوں کے مفرد کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں جو ان کے جگر تک پھیل گئے۔

اس آپریشن میں جگر کے دونوں جانب خون کی نلی کو غبارے کی طرح پھلا کر جسم کے باقی حصوں سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جگر کو پورے طور سے کینسر کی دوا دی جاتی ہے اور پھر جگر کو جسم کے باقی حصوں سے جوڑنے سے پہلے صاف کیا جاتا ہے تاکہ کینسر کی دوا کا اثر دوسرے حصے تک نہ جا سکے۔

اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جسم میں دوا کا بہت کم عنصر باقی رہتا ہے اور دوا کے منفی اثرات سے تحفظ مل جاتا ہے۔

ریڈیولوجی کے ماہر ڈاکٹر براین سٹیڈ مین نے کہا: ’کسی حصے کا جسم سے ایک گھنٹے کے لیے علیحدہ کیا جانا اور پھر اسے پوری طرح سے دوا میں شرابور کر دینا اور اس کے بعد اسے پوری طرح سے صاف کرنا اور پھر پہلی حالت میں واپس لانا یہ سب ایک بڑا کارنامہ ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’پہلے کینسر کے مریض اور بطور خاص جن کا کینسر جگر تک پھیل چکا ہو ان کے لیے کیموتھراپی کا تصور پسندیدہ نہیں تھا کیونکہ معمول کی کیموتھراپی میں جسم کے باقی حصے بھی اس سے متاثر ہوتے تھے‘۔

یہ سرجری گزشتہ تین مہینوں میں کی گئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ دونوں مریض رو بہ صحت ہیں اور دواؤں کا اثر نظر آ رہا ہے اور ان کے ٹیومر یا رسولی کا کا پھیلاؤ چھوٹا ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر سٹیڈ مین نے بی بی سی سے کہاکہ ’بیس سال بعد کسی ایک حصے میں کینسر کے علاج کے لیے ایسی سوئی لگانا جس سے پورا جسم زہر آلود ہو جائے فرسودہ خیال تصور کیا جائے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔