اچھی شراپ کے لیے ڈرون کا استعمال

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 16:48 GMT 21:48 PST

’فرانس میں ابھی بھی اس شعبے میں روایتی طریقہِ کار استعمال کیے جا رہے ہیں‘۔ پروفیسر ڈیوڈ گرین

پروفیسر ڈیوڈ گرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے شراب (وائن) بنانے والے ’پریسیژن وٹیکلچر‘ میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

ڈیوڈ گرین یونیورسٹی آف ایبرڈین میں جغرافیہ کے پروفیسر ہیں اور پریسیژن وٹیکلچر شعبے کے ماہر بھی ہیں۔

پریسیژن وٹیکلچر میں کسی وائن یارڈ (انگوروں کے باغ) کے بارے میں معلومات اکھٹی کر کے بہترین فصل اگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان معلومات میں باغ میں سورج کی کرنوں کے لیے موضوں ترین مقامات سے لے کر مٹی کی نمی تک شامل ہیں۔

پروفیسر گرین کا کہنا ہے کہ پریسیژن وٹیکلچر اور اس کے زیادہ تر طریقہِ کار امریکہ اور آسٹریلیا میں شروع ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری مقاصد کے لیے کھولے گئے وائن یارڈز کے مالکان کے پاس اب کافی پیسے ہوتے ہیں اور انہیں کافی رقبہ بھی دیکھنا ہوتا ہے۔

ڈیوڈ کہتے ہیں کہ دوسری جانب فرانس میں ابھی بھی اس شعبے میں روایتی طریقہِ کار استعمال کیے جا رہے ہیں اور برطانیہ میں تو جدت کی رفتار اور بھی سست ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ کی وائن کی صنعت شوقیہ طور پر کام کرنے والوں نے شروع کی تھی۔

انیس سو اسی کی دہائی میں اس شعبے پر کام شروع کرنے والے پروفیسر بتاتے ہیں کہ پریسیژن وٹیکلچر میں پہلا قدم ہوتا ہے باغ کی فضائی تصاویر بنانا۔ اس کے لیے ماڈل جہازوں میں کیمرے نصب کیے جاتے ہیں اور یہ پھر باغوں کے علاقے میں پرواز کرتے ہیں۔

آج کل استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ پروفیسر گرین ایک آئی پیڈ کے ذریعے ’پیرٹ اے آر‘ ڈرون جہاز اڑاتے ہیں جس میں دو کیمرے لگے ہوتے ہیں جو کہ ویڈیو اور تصاویر دونوں بناتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ماڈل جہاز اڑانا کافی مشکل کام ہے۔ ’اس پرواز کو درست کرنے میں دس منٹ لگ گئے۔ اس کی قیمت صرف تین سو پاؤنڈ ہے۔‘

ان فضائی تصاویر کی مدد سے پورے باغ کا نقشہ بنایا جاتا ہے جس میں پھر دوسری معلومات کو ڈالا جاتا ہے۔ مختلف مقامات سے مٹی کے نمونوں کے نتائج کی ان نقشوں پر نشاندہی کی جاتی ہے اور جی پی ایس کی مدد سے انگوروں کی افزائش کے لیے بہترین مقامات چنے جاتے ہیں۔

پریسیژن وٹیکلچر اور اس کے زیادہ تر طریقہِ کار امریکہ اور آسٹریلیا میں شروع ہوئے

پروفیسر گرین بتاتے ہیں کہ شمالی امریکہ میں کاشت کاری کے آلات بڑے رقبوں پر کام کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور یہ سارا نظام جی پی ایس کی مدد سے چلتا ہے۔

اور اب تو جدید طرز کی تصویر کشی کا پریسیژن وٹیکلچر میں اور اہم کردار سامنے آ رہا ہے۔

’کئی سالوں سے لوگ فضائی تصاویر سے باغ کی مٹی کے بارے میں تجزیے کر رہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تصویر کشی کا معیار بہتر ہوتا گیا ہے۔‘

’اب ہم تھرمل تصاویر (درجہِ حرارت پر مبنی تصاویر) کی مدد سے مٹی میں فرق کر سکتے ہیں۔‘

اگلا مرحلہ اب ’ہائیپر سپیکٹرل‘ تصاویر لینے کا ہے۔ ایسی تصاویر کھینچنے کے لیے پورے الیکٹرومگنیٹک سپیکٹرم کا استعمال کیا جاتا ہے اور ایسی تصاویر میں وہ معلومات بھی ہوتی ہیں جو انسیانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔

پروفیسر کا کہنا ہے کہ ’ میں سپین میں ایک ایسے منصوبے کے بارے میں جانتا ہوں جہاں ہائیپر سپیکٹرل تصاویر استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان تصاویر سے کافی معلومات جمع کی جا سکتی ہیں۔ بہت جلد آپ کو مٹی کے نمونے جمع کرنے کی ضرورت نہیں پڑی گی۔‘

ایک بار جب یہ معلومات اکھٹی کر لی جاتی ہیں تو انھیں پھر ایک ’جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم‘ (جی آئی ایس) نامی سافٹ ویئر میں ڈالا جاتا ہے جو کہ اب نہ صرف لیپ ٹاپ کمپیوٹر بلکہ ٹیبلٹ اور سمارٹ فون پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر گرین بتاتے ہیں کہ حال ہی میں انھوں نے سام سنگ گیلکسی ٹیبلٹ پر ایک جی آئی ایس اپلیکیشن استعمال کی اور وہ بہت ٹھیک طریقے سے چلی۔ آپ چلتے پھرتے ہوا کا درجہ حرارت اور رخ جیسی معلومات سسٹم میں ڈال سکتے ہیں۔‘

جی آئی ایس کے ذریعے باغ کے مالکان اپنے باغ کے بارے میں نہ صرف مکمل معلومات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ سال ہا سال کا موازنہ بھی کر سکتے ہیں۔

’ہمارے لیے اہم ترین ٹیکنالوجی تو ٹوئٹر ہے جو کہ ہمارے کاروبار کے لیے بہت اچھی ہے‘ سیم لنڈو

’بہت سے وائن کے باغ، ایسی معلومات جمع نہیں کرتے۔‘

ماہرین سے بات کر کے لگتا ہے کہ بہت سے باغ مالکان کو ابھی بھی اس ٹیکنالوجی کے لیے رضامند کرنا پڑے گا۔

سیم لنڈو کے والدین نے کیمل ویلی وائن یارڈ سنہ انیس سو اناسی میں کارن وال میں شروع کیا۔ یونیورسٹی میں سٹیٹسٹکس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ سیم نے تاریخی موسمی حالات کا جائزہ لیا۔ اس جائزے کے بعد سیم اس نتیجے پر پہنچے کے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں اس علاقے میں انگوروں کی کاشتکاری نہیں ہو سکتی تھی۔ ’ستر کی دہائی میں صرف ایک سال اور اسی کی دہائی میں تین سال اس کام کے لیے موضوں تھے۔‘

معلومات اکھٹی کرنے اور سٹیٹسٹکس کے بارے میں ان کے شوق کے باوجود، سیم کا کہنا ہے کہ ان کا وائن کا باغ اتنا بڑا نہیں کہ فضائی تصاویر یا پریسیژن وٹیکلچر کی مدد لی جائے۔

’ٹیکنالوجی ہونا اچھی چیز ہے مگر اس سلسلے میں ہماری توجہ ان آلات پر ہے جو کہ مکینیکل ہوں یعنی معلومات نہیں، کام کرنے میں مدد کریں۔‘

’ہمارے پاس وائن بنانے کے لیے ’اونو فوس‘ نامی ایک آلہ ہے جو کہ کسی بھی وائن کے بارے میں آپ کو تمام تفصیلات ایک قطرے سے بتا دیتا ہے۔‘

سیم لنڈو کہتے ہیں کہ بیس ہزار یورو کی قیمت کی وجہ سے یہ ہمارا واحد مہنگا آلہ ہے۔

’وائن بنانے کے اصول ابھی بھی وہی ہیں تاہم چند ایسی چیزیں ہیں جو کہ ان تمام مراحل میں آپ کو کچھ زیادہ کنٹرول دے سکتی ہیں۔‘

’ہمارے لیے اہم ترین ٹیکنالوجی تو ٹوئٹر ہے جو کہ ہمارے کاروبار کے لیے بہت اچھی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔