انٹرنیٹ پر صارفین کی نگرانی میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 14:02 GMT 19:02 PST

انٹرنیٹ صارفین کے مواد پر حکومتیں نظر رکھتی ہیں

مختلف عالمی اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کی سرگرمیوں پر حکومتی اداروں کی نگرانی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

انٹرنیٹ کے معروف سرچ انجن گوگل کا کہنا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے گوگل کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے تقریباً اکیس ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔

اس فہرست میں امریکہ سر فہرست ہے جس نے دو ہزار بارہ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران سب سے زیادہ یعنی تقریباً آٹھ ہزار تفصیلات طلب کیں۔

ترکی نے انٹرنیٹ پر شائع مواد ہٹانے کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دیں جو اس ضمن میں سر فہرست ہے۔

گوگل اور اس کے ساتھ دوسری ٹیکنالوجی اور مواصلاتی کمپنیوں کو حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے مواد تک رسائي کے لیے مستقل درخواستیں آتی رہتی ہیں۔

اس سے متعلق کمپنی نے سنہ دو ہزار سے سالانہ ٹرانسپریسی رپورٹ شائع‏ کرنی شروع کی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈیٹا تک رسائی کے لیے حکومت کے مطالبوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

سال دو ہزار نو کی پہلی رپورٹ میں اسے بارہ ہزار پانچ سو انتالیس درخواستیں موصول ہوئیں تھیں جبکہ حالیہ رپورٹ کے مطابق بیس ہزار نو سو انتالیس درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

گوگل نے اس سے متعلق جاری ایک بیان میں کہا ہے’ہم اس طرح کا ڈیٹا چھ بار جاری کر چکے ہیں اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ حکومت کی نگرانی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘

" یہ ملک کے قوانین کی عکاس ہے۔ مثال کے طور پر ترکی میں سیاسی شخصیات کو بد نام کرنے سے متعلق خاص قوانین ہیں جبکہ جرمنی سے ہمیں نازیوں سے متعلق مواد ہٹانے کو کہا جاتا ہے۔ برازیل میں انتخابات کے دوران بہت سا مواد ہٹانے کی درخواستیں ملتی ہیں کیونکہ وہاں پر امیدوار کی نقل کرنا غیر قانونی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ رپورٹ اس بات پر روسنی ڈالے گی کہ حکومتیں کس طرح آن لائن سروز میں مداخلت کرتی ہیں اور قوانین اس پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔"

گوگل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی رپورٹ دنیا بھر کی حکومتوں کے رویے کے متعلق خبردار کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا’یہ ملک کے قوانین کی عکاس ہے۔ مثال کے طور پر ترکی میں سیاسی شخصیات کو بدنام کرنے سے متعلق خاص قوانین ہیں جبکہ جرمنی سے ہمیں نازیوں سے متعلق مواد ہٹانے کو کہا جاتا ہے۔‘

’برازیل میں انتخابات کے دوران بہت سا مواد ہٹانے کی درخواستیں ملتی ہیں کیونکہ وہاں پر امیدوار کی نقل کرنا غیر قانونی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالے گی کہ حکومتیں کس طرح آن لائن خدمات میں مداخلت کرتی ہیں اور قوانین اس پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔‘

قابل غور بات یہ ہے کہ آن لائن ڈیٹا تک رسائی میں امریکی ایجنسیاں مستقل سب سے آگے ہیں۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین اور برطانیہ کا شمار بھی اس فہرست کے پہلے دس نمبر میں ہوتا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ حکومتیں مواد ہٹانے کے لیے، بدنامی، راز اور سکیورٹی جیسے تین اہم باتوں کا بہانہ بناتے ہیں۔

عالمی سطح پر دو ہزار بارہ میں گوگل کو مواد ہٹانے کے لیے ایک ہزار سات سو نواسی درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ دو ہزار گيارہ کی آخری چھ ماہ میں اسے ایک ہزار اڑتالیس ملی تھیں۔

جنوری سے جون کے درمیان ترکی نے مواد ہٹانے کے لیے پانچ سو ایک بار کہا جس میں سے ایک اڑتالیس بار ملک کے پہلے صدر مصطفیٰ کمال اتاترک سے متعلق تھی۔ اس کے علاوہ دیگر فحاشی، نفرت انگیز اور کاپی رائٹ کے متعلق تھیں۔

گوگل کی اس سے متعلق اپنی پالیسی ہے کہ آیا وہ اس مواد کو ہٹائے گا یا نہیں۔ اگر کمپنی مطمئن ہے تو درخواست منظور ہوتی ورنہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔