تمباکونوشی کے لیے لائسنس کی تجویز

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 12:20 GMT 17:20 PST

تمباکو نوشی کے خواہشمند افراد کو اپنی روزانہ کی حد کا تعین بھی کرنا ہوگا

اگر آپ ایک تمباکونوش ہیں تو کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ تمباکو خریدنے کے لیے آپ کو لائسنس لینا پڑے اور اس لائسنس کے حصول کے لیے آپ کو ایک امتحان سے گزرنا پڑے جس میں یہ پتہ چلایا جائے کہ آیا آپ تمباکو نوشی کے خطرات سے آگاہ ہیں یا نہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس لائسنس کے تحت آپ کے روزانہ سگریٹ خریدنے کی حد بھی مقرر کی جائے۔

بظاہر یہ بہت سخت اقدامات لگتے ہیں لیکن آسٹریلیا میں صحتِ عامہ کے ایک مشہور ماہر نے یہ تجویز اس خیال کے تحت پیش کی ہے کہ اس سے عملی طور پر تمباکونوش افراد کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی کے پروفیسر سائمن چیپ مین تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے کارگر اقدامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

پلوس میڈیسن نامی جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں پروفیسر سائمن کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کے لیے لائسنس کے اجراء کی تجویز ان ممالک کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہے جو اس پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا تمباکو نوشی میں کمی کے لیے کیا حکومت کی جانب سے لائسنس کا اجراء ہی بہترین حل ہے اور ایسا کوئی منصوبہ کیسے قابلِ عمل ہو سکتا ہے؟

سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں سنہ 2001 میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق رواں صدی میں ایک ارب افراد تمباکو نوشی سے جڑی بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہوں گے۔ تاہم پروفیسر چیپ مین کے خیال میں ان اعدادوشمار کے باوجود تمباکو سے بنی اشیاء پر کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ کسی بھی دکان پر فروخت کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے جس لائسنس کی تجویز دی ہے وہ ایک کارڈ کی شکل میں ہو گا جس کے حصول کے لیے تمباکونوش افراد کو درخواست دینا ہوگی اور اس کارڈ کے بغیر کسی بھی دکان سے سگریٹ نہیں خریدے جا سکیں گے۔

ان کے مطابق غیرلائسنس یافتہ افراد کو سگریٹ فروخت کرنے پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے اور دکان کا لائسنس منسوخ ہونے کا خطرہ دکانداروں کو تمباکو کی ایسے افراد کو فروخت سے باز رکھے گا۔

"لائسنس کے حصول کے لیے امتحان دینے کو کہنا نہ صرف تمباکو نوش افراد بلکہ ہر اس بالغ شخص کی تذلیل ہے جسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس تمباکو نوشی کرنی ہے یا نہیں اور اگر کرنی ہے تو اس کی مقدار کتنی ہوگی۔"

ترجمان برٹش امریکن ٹوبیکو

کن ٹوبیکوپروفیسر چیپ مین کے مطابق ان کے منصوبے میں تمباکو نوشی کے خواہشمند افراد کو اپنی روزانہ کی حد کا تعین بھی کرنا ہوگا اور انہیں اپنے لائسنس کی ایک خاص مدت کے بعد تجدید بھی کروانا ہوگی۔

انہوں نے اس عادت کو ترک کرنے والے افراد کے لیے انعام کی تجویز بھی دی ہے جس کے تحت انہیں تمباکو نوشی کی مدت کے دوران دی گئی لائسنس فیس واپس کرنے کی بات کی گئی ہے۔ پروفیسر چیپ مین کے منصوبے کے تحت اگر تمباکو نوشی کرنے والا ایک مرتبہ اسے ترک کرتا ہے تو آئندہ اسے کبھی بھی دوبارہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

تاہم پروفیسر سائمن چیپ مین کے اس منصوبے کو ابتداء سے ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرگ میں عالمی پالیسی برائے صحت کے استاد پروفیسر جیف کالن کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا ہدف صارف ہے جبکہ اصل ہدف سگریٹ بنانے والے ادارے ہونا چاہیئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا لائسنس تمباکو کی اس صنعت کے لیے ایک ’تحفہ‘ ہوگا جو دنیا میں بیماری کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ ہے۔

تمباکو کی مصنوعات کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس تجویز کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ برٹش امریکن ٹوبیکو کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لائسنس کے حصول کے لیے امتحان دینے کو کہنا نہ صرف تمباکو نوش افراد بلکہ ہر اس بالغ شخص کی تذلیل ہے جسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس تمباکو نوشی کرنی ہے یا نہیں اور اگر کرنی ہے تو اس کی مقدار کتنی ہوگی‘۔

"سگریٹ عام استعمال کی چیز نہیں اور اس لیے اسے عام طور پر دستیاب نہیں ہونا چاہیے"

پروفیسر سائمن چیپ مین

ترجمان کے مطابق ’یہ پولیس اور انتظامیہ کی مشکلات میں اضافہ کرے گا اور لوگ غیر قانونی طور پر تمباکو کے حصول کی کوشش کر کے جرم کی دنیا کا حصہ بنیں گے‘۔

پروفیسر چیپ مین کا کہنا ہے کہ یہ دلیل صحیح نہیں کیونکہ غیرقانونی طریقے غیرقانونی اشیاء کے حصول کے لیے اپنائے جاتے ہیں جبکہ تمباکو تو قانونی طور پر دستیاب ہوگا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمباکونوشی کے لیے لائسنس کا حصول اور اس کی تجدید پر آنے والے اخراجات غریبوں کو اسے ترک کرنے پر آمادہ کرنے میں مدد دیں گے۔

ان کے مطابق سگریٹ عام استعمال کی چیز نہیں اور اس لیے اسے عام طور پر دستیاب نہیں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔