غزہ پر اسرائیل، حماس تنازع اب ٹوئٹر پر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 13:28 GMT 18:28 PST

اسرائیلی فوج نے احمد جباری کو ٹارگٹ کرنےکی ویڈیو جاری کی ہے

اسرائیلی فوج اور فلسطین کی تنظیم حماس کے درمیان مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک دوسرے کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔

بدھ کو اسرائیلی ڈیفنس فورس نے غزہ میں حماس کے خلاف اپنی تازہ فوجی کارروائی کے بارے میں ٹوئٹر پر براہ راست ٹوئٹس اور بلاگنگ کا سلسلہ شروع کیا۔

بدھ کو ہی اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ احمد جباری ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کے بارے میں ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

حماس کے مسلح ونگ عز الدین القسام بریگیڈ کی جانب سے جوابی بیان میں کہا گیا ہے کہ’ آپ کے رہنما اور فوجی جہاں بھی ہیں ہمارے مبارک ہاتھ ان تک پہنچ جائیں گے، آپ نے اپنے اوپر جہنم کے دروازے کھول لیے ہیں۔‘

حماس گزشتہ بیس گھنٹوں سے اپنی کارروائیوں کے بارے میں مسلسل کمٹنری کر رہا ہے، جس میں اسرائیل میں فوجی ٹھکانوں سمیت مختلف اہداف کو مارٹر اور راکٹ حملوں میں نشانہ بنانے کا بتایا جا رہا ہے۔

جمعرات کو حماس کی جانب سے فخریہ انداز میں ایک ویڈیو یوٹیوب پر جاری کی گئی جس میں پہلی بار اسرائیل کے سب سے بڑے شہر تل ابیب کی جانب ’فجر پانچ‘ میزائل داغتے ہوئے دکھایا گیا۔

اس کے جواب میں اسرائیلی افواج نے ایک ٹوئٹ میں ویڈیو کا لنک جاری کیا جس میں اسرائیلی ایئر فورس کی جانب سے غزہ میں حملوں کے دوسرے روز راکٹوں کے گودام کو نشانہ بناتے دکھا گیا ہے۔

حماس نے اسرائیلی رہنماؤں اور فوجیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عسکری کارروائیوں کے بارے میں مطلع کرنا اور کمنٹری تقریباً رئیل ٹائم میں کی جا رہی ہے۔

اس وجہ سے ممکنہ طور پر عسکری طاقتوں کا ٹوئٹر کے اپنے قواعد و ضابط کے ساتھ تنازع ہو گیا ہے۔ جس میں تشدد اور دھمکیاں کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ’ آپ دوسرے کے بارے میں تشدد کے مخصوص دھمکی آمیز پیغامات براہ راست جاری اور شائع نہیں کر سکتے۔‘

میڈیا ریسرچ کمپنی اینڈرز اینلسسز کے بینڈیکٹ ایونز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’اس نے واضح طور پر ٹوئٹر کو ایک مختلف پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے، وہ کیرئیر سروس کے طور پر اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور وہ مدیر کی پوزیشن نہیں چاہتے۔‘

اس کے علاوہ استعمال کی شرائط اور قواعد و ضوابط ہیں جن کی لازمی طور پر پابندی کرنی چاہیے۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا ٹوئٹر فریقین آن لائن جنگ میں کس طرح سے مداخلت کرتا ہے اور کیا جنگجووں پر پابندیاں لگاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔