مریخ گاڑی کے آس پاس بگولوں کا راج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 07:58 GMT 12:58 PST

مریخ گاڑی کا کیمرا۔

ناسا کی مریخ گاڑی کیوروسٹی کو اب تک خاصے خوشگوار موسم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ دھول کے بگولے ابھی تک گاڑی کے کیمروں کی زد پر نہیں آئے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ گاڑی کے آس پاس منڈلاتے رہے ہیں۔

کیوروسٹی کے موسمیاتی سٹیشن کے جمع کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بگولے گاڑی کی لیبارٹری کے اوپر سے بھی گزرے ہوں۔

یہ غیر متوقع نہیں ہے۔ مریخ پر اس سے قبل اترنے والی گاڑیوں نے بھی ایسے ہی گردبادوں کی تصویریں بھیجی تھیں۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے سائنس دان مینوئل ہواریس کہتے ہیں، ’یہ بگولا ویسا ہی ہوتا ہے جو آپ نے فلموں میں دیکھا ہوگا کہ یہ دھول کے ایک ننھے سے ٹورنیڈو کی مانند ہوتا ہے۔ اس مظہر کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیوں کہ مریخ کے موسم کا تعین بڑی حد تک انھی بگولوں سے ہوتا ہے۔‘

یہ گردباد بعض اوقات پورے سرخ سیارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ گرد فضا کو بھی گرم کر دیتی ہے۔

کیوروسٹی پر نصب آلات سے پتا چلا ہے کہ گاڑی جس گڑھے کے اندر اتری تھی وہاں عام طور پر ہوائیں مشرق سے مغرب کی طرف چلتی ہیں۔ یہ بات سائنس دانوں کے لیے حیران کن تھی کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ وہاں موجود پہاڑ کی وجہ سے یہ ہوائیں شمال سے مغرب کی جانب چلیں گی۔

کیوروسٹی مشن سے وابستہ ایک سائنس دان کلیئر نیومین کہتی ہیں کہ ’مریخ کی فضا ہر سال تیس فیصد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے، کیوں کہ خزاں میں فضا کے بعض حصے منجمد ہو جاتے ہیں، اور بہار میں دوبارہ گیس میں ڈھل جاتے ہیں۔ زمین پر ایسی کوئی چیز دیکھنے میں نہیں آتی۔‘

"مریخ کی فضا ہر سال تیس فیصد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے، کیوں کہ خزاں میں فضا کے بعض حصے منجمد ہو جاتے ہیں، اور بہار میں دوبارہ گیس میں ڈھل جاتے ہیں۔ زمین پر ایسی کوئی چیز دیکھنے میں نہیں آتی۔"

کیوروسٹی مشن کی سائنس دان کلیئر نیومین

ہوا کے دباؤ میں ترتیب وار تبدیلیوں کو کیورسٹی کے ایک اور آلے نے مشاہدہ کیا ہے جسے ’ریڈ‘ کہا جاتا ہے۔

ریڈ سے پتا چلتا ہے کہ دن کے خاتمے پر ہوا کے دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور سطح پرسورج سے آنے والی تابکاری کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

اصل میں ہوتا یہ ہے کہ جب فضا کی تہہ زیادہ موٹی ہو جاتی ہے تو اس کے اندر نہ صرف زیادہ حدت برقرار رہ سکتی ہے بلکہ وہ مریخ کے باہر سے آنے والی مضر شعاعوں کو بھی سطح تک پہنچنے سے بچانے کے لیے زیادہ مؤثر ڈھال کا کام کرتا ہے۔

کیوروسٹی کے ایک اور سائنس دان ڈان ہیسلر کہتے ہیں ’ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ ہمیں مریخ پر موسمی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی، لیکن ہمیں تھوڑی سی حیرت ہوئی ہے کہ یہ آلہ اتنا حساس ہے کہ ہم روزانہ کا تغیر بھی دیکھ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔