کمزور پٹھے، قبل از وقت موت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

پٹھوں کی طاقت عمومی فٹنس کو ظاہر کرتی ہے، اس لیے کا اس لمبی عمر سے تعلق بنتا ہے۔

آپ کی عمر کتنی لمبی ہو گی؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ نوجوانی میں آپ کے پٹھے کتنے مضبوط تھے۔ خاص طور پر اگر آپ مرد ہیں۔

سوئیڈش ماہرین نے دس لاکھ ٹین ایجر لڑکوں کا 24 سال تک جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا کہ جن لڑکوں کے پٹھوں کی طاقت کم تھی اور جن کے بازوؤں اور ٹانگوں کے پٹھے کمزور تھے، انھیں قبل از وقت موت کا شکار ہونے کا زیادہ خطرہ تھا۔

برطانوی طبی جریدے بی ایم جے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مصنفین کا خیال ہے کہ پٹھوں کی طاقت عمومی فٹنس کو ظاہر کرتی ہے، اس لیے دونوں کا آپس میں تعلق ہے۔

ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پٹھے بڑھانے سے عمر لمبی ہو سکتی ہے۔

پٹھوں کی ناقص فٹنس کا قبل از وقت موت سے ویسا ہی تعلق تھا جیسے خطرے کے دوسرے جانے پہچانے عوامل یعنی موٹاپے اور بلند فشارِ خون کا ہوتا ہے۔ جب تحقیق کاروں نے ان جانے پہچانے عوامل کو مدِنظر رکھا، تب بھی کمزور پٹھوں اور قبل از وقت موت کا تعلق قائم رہا۔

اگر دبلے اور موٹے مردوں کے پٹھے کمزور ہوں تو ان کی عمر کم رہتی ہے، جب کہ طاقتور مرد اگر موٹے بھی ہوں تب بھی ان کی زندگی نسبتاً لمبی ہوتی ہے۔

اس مطالعے کے دورانیے میں 21145 (دو اعشاریہ تین فیصد) ہلاک ہوئے۔ ان کی ہلاکت کی واحد بڑی وجہ حادثاتی موت تھی، جب کہ اس کے بعد خودکشی، کینسر، دل کی بیماری، اور فالج کا نمبر آتا ہے۔

وہ نوجوان جن کے پٹھوں کی طاقت کا سکور تحقیق کے آغاز پر اوسط سے زیادہ تھا، انھیں کسی بھی وجہ سے ہونے والی قبل از موت کا خطرہ 20 سے 35 فیصد تک کم تھا۔

ان میں خود کشی کا بھی 20 سے 30 فیصد کم خطرہ تھا، جب کہ شیزوفرینیا یا ڈپریشن جیسے کسی نفسیاتی عارضے کا خطرہ بھی 65 فیصد کم تھا۔

اس کے مقابلے پر 16 سے لے کر 19 سال کی عمر کے نوجوان جن کے پٹھوں کی طاقت سب سے کم تھی، ان کے اندر 55 برس کی عمر کے لگ بھگ ہلاک ہونے کا تناسب سب سے زیادہ تھا۔

یہ نوجوان سویڈش فوج میں رنگروٹ تھے اور انھیں بھرتی کے وقت کہا گیا تھا کہ وہ پٹھوں کی طاقت معلوم کرنے کے لیے ورزش میں استعمال ہونے والی مشینوں پر طاقت صرف کریں۔

"کسی بھی عمر میں جسمانی طور پر چاق و چوبند ہونے کے فوائد مختلف تحقیقات میں ثابت ہو چکے ہیں۔ یہ بات ثابت کی جا چکی ہے کہ اس سے بچوں کو نہ صرف بعد کی عمر میں بیماریوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے، بلکہ اس سے سکول میں ان کی ارتکاز کی قوت اور مجموعی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔"

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ترجمان

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ترجمان نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’کسی بھی عمر میں جسمانی طور پر چاق و چوبند ہونے کے فوائد مختلف تحقیقات میں ثابت ہو چکے ہیں۔ یہ بات ثابت کی جا چکی ہے کہ اس سے بچوں کو نہ صرف بعد کی عمر میں بیماریوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے، بلکہ اس سے سکول میں ان کی ارتکاز کی قوت اور مجموعی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔‘

لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر سٹیون ایونز کہتے ہیں کہ ’اگرچہ ورزش کے فوائد کے شواہد موجود ہیں، اس تحقیق سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ زیادہ ورزش کرنے سے آپ کی عمر لمبی ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو مزید ورزش کروانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔

پروفیسر ایونز کا کہنا تھا ’افسوس کی بات ہے کہ زیادہ ورزش پر کی جانے والی تحقیقات سے کوئی خاص فائدے سامنے نہیں آ سکے، تاہم یہ بات مجھے اور بہت سے دوسروں کو ورزش کرنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔