ماحولیات پراقوام متحدہ کی کانفرنس قطر میں

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 10:15 GMT 15:15 PST

دوحہ میں کانفرنس کے انعقاد سے ہی بعض لوگ حیرت میں ہیں

ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کی اگلی کانفرنس قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہونے والی ہے جس میں تقریبا سترہ ہزار افراد شرکت کریں گے۔

اس کانفرنس میں آئندہ دو ہفتے تک ماحولیات سے متعلق کسی عالمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے بات چیت کا امکان ہے۔لیکن اس مسئلے پر امیر اور غریب ممالک میں جو پرانے اختلافات پائے جاتے ہیں اس کا سایہ اس پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔

قطر کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کاربن ڈائی اکسائیڈ کا اخراج بہت زيادہ ہوتا ہے اس لیے اس کے دارلحکومت دوحہ میں ماحولیات سے متعلق اس کانفرنس کے انعقاد سے بھی کچھ لوگوں کو حیرت ہوئي ہے۔

کاربن ڈائی اکسائیڈ کا اخراج ماحولیات کی آلودگي اور اضافے کا ایک اہم سبب ہے اور اسی پر قابو پانا بھی سب سے متنازع مسئلہ ہے۔

ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کی یہ اٹھارہویں کانفرنس ہے۔ اس سے متعلق 2009 میں کوپن ہیگن میں ہونے والی بات چیت ناکام ہوگئی تھی اس لیے تب سے نئی حکومت عملی وضع کرنے پر غور و فکر ہوتا رہا ہے۔

ماحولیات سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار میٹ میک گرا کا کہنا ہے کہ دوحہ کی اس کانفرنس میں شرکا کو کچھ تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس بارے سے غریب ممالک کی مدد کے لیے جو فنڈ ہے وہ اس سال کے اواخر میں ختم ہورہا ہے۔ کیوٹو پروٹوکول کے تحت تیس امیر ممالک پر پہلی بار جو کاربن گيسز کو کٹوتی کی معیاد تھی، اس کی مدت بھی ختم ہورہی ہے۔

دوحہ کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کو گرین ہاؤس گيسز میں کمی کے لیے مزید پیسہ درکار ہوگا۔

بعض ممالک کو یہ خطرہ بھی ہے کہ کہیں اس سے خام ایندھن سے حاصل ہونے والی آمدنی تو متاثر نہیں ہوگي۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس مسئلے پر مختلف ممالک کے الگ الگ تخفظات ہیں اس لیے دوحہ کانفرنس میں کسی ایک نکتے پر متفق ہونا اتنا آ‎سان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔