خون سے سٹیم سیل کی تیاری

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 نومبر 2012 ,‭ 10:33 GMT 15:33 PST
خون کے سیل

خون کے خلیوں سے سٹیم سیل بنانے سے کئی بیماریوں کا مؤثر علاج ہو سکے گا۔

برطانوی سائنسدانوں نے ایک مریض کے اپنے ہی خون سے اس کے ذاتی استعمال کے لیے سٹیم سیل بنایا ہے۔

ڈاکٹروں کو امید ہے کہ بالاخر اس سے مختلف قسم کی بیماریوں کے علاج میں مدد ملے گی۔

کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ سٹیم سیل حاصل کرنے کے آسان ترین اور محفوظ ترین طریقوں میں سے ایک ہوگا۔

عالمی طبی جریدے ’سٹیم سیل: ٹرانسلیشنل میڈیسن‘ میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سٹیم سیل کا استعمال شریان بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

بہر حال ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے سٹیم سیل کا استعمال محفوظ ہے یا نہیں، اس بات میں ابھی احتمال ہے۔

طبی تحقیق کے میدان میں سٹیم سیل سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ یہ کسی بھی قسم کے خلیوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں جن سے جسم کی تعمیر ہوئی ہے اس لیے اس کے ذریعے دل سے لے کر دماغ تک اور آنکھوں سے لے کر ہڈیوں تک کسی بھی عضو کی مرمت کی جا سکتی ہے۔

سٹیم سیل حاصل کرنے کا ایک ذریعہ حمل یا رحم مادر میں ناپختہ بچہ رہا ہے۔ لیکن یہ اخلاقی طور پر متنازع معاملہ ہے اور جسم کے مدافعتی نظام کے ذریعے خارج کیا جا سکتا ہے جیسا کہ کسی بھی عضو کی تبدیلی یا ٹرانسپلانٹ میں ہوتا ہے۔

طبی محققین کا کہنا ہے کہ کسی بالغ کی جلد سے لیے گئے سیل کو سٹیم سیل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جسے جسم اپنے حصے کے طور پر قبول کرے اور اسے باہری عنصر سمجھ کر رد نہ کرے۔

کیمبرج کی ٹیم نے خون کے نمونوں کو سیل کی مرمت کے لیے منتخب کیا اور اسے خون کے دوران کے ساتھ شریانوں میں دوڑایا تاکہ شریانوں کی دیوار کی مرمت ہو سکے۔ اس کے بعد انہیں سٹیم سیل میں تبدیل کر لیا گیا۔

"ہم لوگ اس بات پر کافی پر جوش ہیں کہ ہم نے خون میں شامل ایک مخصوص سیل سے سٹیم سیل تیار کرنے کا ایک مؤثر اور قابل عمل طریقہ ڈھونڈھ نکالا ہے"

ڈاکٹر عامر رعنا

ڈاکٹر عامر رعنا کا کہنا ہے کہ جلد سے حاصل کرنے والے سٹیم سیل سے یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ انھوں نے کہا ’ہم لوگ اس بات پر کافی پر جوش ہیں کہ ہم نے خون میں شامل ایک مخصوص سیل سے سٹیم سیل تیار کرنے کا ایک مؤثر اور قابل عمل طریقہ ڈھونڈھ نکالا ہے۔‘

رعنا کہتی ہیں کہ ’بچوں اور معمر لوگوں کے ریشہ لحمی یا نسیج کی بایوپسی غیر ضروری ہے جبکہ مریض کا خون لیا جانا معمول کا عمل ہے۔‘

رعنا نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ خون سے حاصل سٹیم سیل جِلد سے حاصل سٹیم سیل کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس کا مستحکم اور استوار ہونا خوش آئند بات ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پہلے ہم اس کا استعمال تجربہ گاہ میں کر لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد ہم اس تکنیک کو پہلی بار کلینک میں لائيں گے۔‘

یونیورسٹی کالج لندن میں طبی ماہر پروفیسر کرس میسن نے کہا کہ کیمبرج کی تجربہ گاہ سے چند بے حد ’خوبصورت کام‘ سامنے آ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جِلد کے اچھے نمونے لینے سے کہیں زیادہ آسان خون کے نمونے لینا ہے اور یہی اس کا بڑا فائدہ ہے۔‘

برطانیہ کے ہارٹ فاؤنڈیشن نے کہا کہ اس سٹیم سیلز تکنیک میں ’کافی صلاحیت‘ ہے۔ میڈیکل ریسرچ کونسل کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں ’تیزی کے ساتھ ترقی‘ ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔