انٹرنیٹ پہ اقوام متحدہ کی کانفرنس پر خدشات

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 14:50 GMT 19:50 PST
ڈاکٹر حمادون

ڈاکٹر حمادون کے مطابق ان کا ادارہ انٹرنیٹ پر حکومتی نگرانی کے حق میں نہیں ہے

اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کی جانب سے انٹرنیٹ اور مواصلات سے متعلق دبئی میں منعقدہ ایک کانفرنس سے انٹرنیٹ کو خطرہ لاحق ہے۔

دبئی میں ہونے والی اس کانفرنس میں ایک سو ترانوے ممالک کے حکومتی نمائندے شامل ہیں جو مواصلاتی معاہدے پر نظر ثانی کریں گے۔

اس موقعے پرگوگل نے خبر دار کیا ہے کہ اس طرح کی کانفرنس ’اوپن انٹرنیٹ‘ کے لیے کھلا خطرہ ہے جبکہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں موجودہ نظام موثر ہے اور ’اگر کوئی چیز ٹوٹی نہیں تو اسے جوڑنے کا کیا مقصد۔‘

اقوام متحدہ کی ایجنسی ’انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین‘ ( آئي ٹی یو) کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انٹرنیٹ تک زيادہ سے زيادہ افراد کی رسائي ممکن ہو سکے۔

آئي ٹی یو کے سیکرٹری ڈاکٹر حمادون تور نے اس کانفرنس سے قبل کہا ’تلخ حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائي امیروں تک ہی محدود ہے اور اسی لیے آئی ٹی یو اسے تبدیل کرنا چاہتی ہے۔‘

آئي ٹی یو اٹھارہ سو پینسٹھ میں اس وقت تشکیل دی گئی تھی جب اقوام متحدہ بھی وجود میں نہیں آئی تھی لیکن وہ دور ٹیلی گرام کا تھا اور تب سے اس شعبہ میں بڑی تبدیلیاں آئي ہیں لیکن انہی پرانے اصول و ضوابط کو سب اپناتے ہیں۔

آخری بار ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیشن میں بڑی تبدیلیاں سنہ انیس سو اٹھاسی میں کی گئی تھیں اور تب سے پہلی بار دبئي میں ہونے والی اس ’ورلڈ کانفرنس آن انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن‘ ( ڈبلیو سی آئی ٹی) میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونکیشن کے اصول و ضوابط پر بات چيت ہوگي۔

" بہت سی ایسی فعال سفارشات آئي ہیں کہ انٹرنیٹ یا اس کے ذریعے جو مواد بھیجا جاتا ہے یا پھر لوگ انٹرنیٹ پر کیا کہتے اور اس پر کیا دیکھتے ہیں اس سب کو مینیج کرنے میں مداخلت کا طریقہ اپنانا چاہیے۔ یہ تو بنیادی تو پر جمہوری طرز پر جن چيزوں میں ہم یقین رکھتے ہیں یا انفرادی طور پر جو مواقع حاصل ہیں اس کے پوری طرح مناقی ہے۔ اس طرح کی کسی بھی ایس تجویزکی ہم سخت مخالفت کریں گے۔"

آئی ٹی یو کا کہنا ہے کہ اسے نئی ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو گزشتہ چوبیس برسوں میں عام ہوگئی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بعض ممالک کی جانب سے بحث کے لیے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ تشویش ناک ہیں۔

اقوام متحدہ میں ڈبلیو ٹی سی آئی ٹی کے لیے امریکہ کے سفارت کار ٹیری کریمر کے مطابق ’اس طرح کی تجاویز سامنے آئی ہیں کہ آئي ٹی یو کو اب انٹرنیٹ کے ضوابط لاگو کرنے کے معامالات میں بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایسی بہت سی سفارشات آئي ہیں کہ انٹرنیٹ یا اس کے ذریعے جو مواد بھیجا جاتا ہے یا پھر لوگ انٹرنیٹ پر کیا کہتے اور اس پر کیا دیکھتے ہیں اس سب کو ضابطے میں لانے کے لیے تجاویز ہیں۔‘

مسٹر کریمر نے مزید کہا ’یہ تو بنیادی طور پر جمہوری اقدار جن پر ہم یقین رکھتے ہیں اور فرد واحد کو جو مواقع حاصل ہیں اس کے پوری طرح منافی ہے اور ہم اس نوعیت کی کسی بھی تجویزکی سختی سے مخالفت کریں گے۔‘

انہوں نے روس کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز پر تشویش ظاہر کی جس میں کہا گيا ہے کہ انٹرنیٹ پر ضوابط لاگو کرنے کے لیے تمام اراکین کو برابر کے حق ملنے چاہیں۔

امریکی سفارتکار کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے سنسرشپ کے مزید دروازے کھل جائیں گے۔

انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے دنیا میں ہر جگہ آوازیں اٹھ رہی ہیں

یورپین ٹیلی کمیونکیشن نیٹ ورک آپریٹر ایسوسی ایشن حکومت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ اس سلسلے میں معیاری نمونہ تیار کریں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کمپنیاں جو ٹیلی کمیونیکیشن کے استعمال سے کوالٹی ویڈیو یا دیگر اہم مواد بغیر کسی پریشانی کے بھیجنا چاہتی ہیں انہیں اس سروس کے لیے کچھ پیسے ادا کرنے پڑ یں گے۔

امریکی سفیر کے مطابق عرب ممالک بھی اس طرح کی تجویز کے حامی ہیں لیکن امریکہ اور یورپ اس تجویز کے مخالف ہیں کیونکہ اس سے انٹرنیٹ سستا ہونے کے بجائے اور مہنگا ہو جائے گا۔

انٹرنیٹ پر کنٹرول کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے کے متعلق رکن ممالک میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

دنیا کے بیشتر ماہرین کا خيال ہے کہ سخت ضوابط لاگو کرنے سے لوگوں کی آزادی کو خطرہ ہے۔

انٹرنیٹ کے ماہر اور کمپیوٹر سائنسدان ونٹ کریفٹ، جو اب گوکل میں انٹرنیٹ امور کے سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ ضوابط لاگو کرنے کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔

ان کے مطابق حکومت کے لیے ایسا کرنا بھی بہت مہنگا پڑےگا اور اس سے انٹرنیٹ کی ترقی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔